’جنگ کے ایک ایک دن کے واقعات پر کتاب‘

،تصویر کا ذریعہISPR
- مصنف, رضا ہمدانی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان اور بھارت میں جہاں ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر فائرنگ کے ساتھ ساتھ تیز و تند بیانات کا تبادلہ جاری ہے وہیں کشمیر کے درینہ تنازعے پر پچاس برس پہلے ہونے والی جنگ میں کامیابیوں اور دوسروں کی ناکامیوں کا پرچار کیا جا رہا ہے۔
بھارت نے اس جنگ میں اپنی ’فتح‘ پر غیر معمولی جشن کا آغاز کیا ہے وہیں پاکستان میں ایک عرصے بعد ’یوم دفاع‘ میڈیا پر چھایا ہوا ہے۔
اسی مناسبت سے پاکستان کی فوج نے بھی جنگ میں اپنی’نمایاں کامیابیوں‘ کا ایک نیا ایڈیشن شائع کیا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965 کی جنگ کے پچاس سال مکمل ہونے پر جہاں بھارت کی حکومت ’فتح‘ کا جشن منا رہی ہے وہیں پاکستان میں صرف فوج کی جانب سے میڈیا کے ذریعے اس کا جواب دینا مناسب سمجھا گیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایک کتاب کی شکل میں 1965 کے حوالے سے رپورٹس چھاپی ہیں۔
اس کتاب کا نام ’انڈو پاکستان وار 1965 - اے فلیش بیک‘ ہے۔
اس کتاب میں لکھا ہے کہ اس کا پہلا ایڈیشن جنگ کے خاتمے کے عین ایک سال بعد ستمبر 1966 میں شائع کیا گیا تھا۔ دوسرا ایڈیشن ستمبر 2002 اور اب یہ تیسرا ایڈیشن آیا ہے۔
اس کتاب میں میں برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ اور ’دی مرر‘ میں شائع ہونے والے مضامین بھی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
116 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں چوِنڈہ کی تاریخی ٹینکوں کی جنگ سے لے کر ’چھمب کی رانی‘ کی کہانی تک بہت کچھ موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہISPR
اگر ایک طرف پاکستان فضائیہ کی کارکردگی کا ذکر ہے تو پاکستانی بحریہ کی جانب سے بھارتی بندرگاہ دوارکا پر حملے کو بھی پیش کیا گیا ہے۔
اس کتاب کو مرتب کرنے والوں میں سابق سیکریٹری فاٹا بریگیڈیئر محمود شاہ بھی شامل ہیں۔ بریگیڈیئر محمود شاہ کا کہنا ہے کہ ’یہ کتاب اصل حقائق پر مشتمل ہے اسے کسی نے لکھا نہیں بلکہ یہ جنگ کے ایک ایک دن کے واقعات کے بارے میں ہے۔‘
بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ 1965 کی جنگ میں انھوں نے بطور رضاکار حصہ لیا تھا کیونکہ اس وقت وہ ایک طالب علم تھے۔
’انڈیا نے بین الاقوامی سرحد کے خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ کیا۔ پاکستان اس جنگ کے لیے بالکل تیار نہیں تھا بلکہ اس کی فوجیں پریڈ کر رہی تھیں، لیکن جب انھوں نے حملہ کیا تو پاکستان نے اس کا جواب دیا۔‘
بریگیڈییر محمود شاہ کہتے ہیں کہ بھارت کو اس جنگ میں ایک قسم کی شکست ہوئی اور تاشقند معاہدے کے بعد جنگ بندی ہوئی۔
ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے میڈیا میں یہ لکھا گیا کہ بھارت نے حملہ کیا اور پاکستان نے جواب دیا ہے۔
مگر اب جنگ کی گنجائش نہیں
1965 کی جنگ کے بعد پاکستان کو 1971 کی جنگ میں مشرقی پاکستان سے الگ ہونا پڑا۔
1999 کی کارگل جنگ میں بھی دونوں ملکوں کو شدید کشیدگی کے بعد جنگ بندی کرنا پڑی۔ لیکن اب ایک بار پھر مذاکرات کے بجائے دونوں جانب سے سرحدی کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے لیے تیاری کے نعرے بلند ہو رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہISPR
مگر ان جنگوں میں حصہ لینے والے فوجی افسران سمجھتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے پاس جنگ کے لیے کوئی گنجائشں نہیں ہے۔ ’اگر چھوٹی جنگ بھی ہوئی تو وہ کسی بڑی جنگ اور جوہری جنگ میں تبدیل ہو جائے گی۔‘
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 17 دن تک جاری رہنے والی اس جنگ میں بھارت کی ایک لاکھ فوج کا پاکستان کی 60 ہزار فوج سے مقابلہ تھا۔
بھارت میں فتح کی تقریبات کا آغاز 28 اگست 1965 میں حاجی پیر پاس پر بھارتی فوج کے قصبے کی مناسبت سے کیا گیا۔
یہ تقریبات 22 ستمبر تک جاری رہیں گی جس دن بھارت اور پاکستان اقوام متحدہ کی طرف سے کرائی گئی جنگ بندی پر رضامند ہو گئے تھے۔
پاکستان ہر سال چھ ستمبر کو اس جنگ کی یاد میں’یومِ دفاعِ پاکستان‘ مناتا ہے تاہم بھارت کا خیال ہے کہ اس جنگ میں اس کی افواج کو پاکستان کی افواج پر واضح برتری حاصل ہوئی تھی۔







