’فیصلہ ہونے تک قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ‘

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت پارلیمان میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنشاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت پارلیمان میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کر دیا ہے، جبکہ سپیکر قومی اسمبلی نے پاکستان تحریک انصاف کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق قراردادوں پر رائے شماری کا معاملہ دو روز کے لیے موخر کر دیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ جب تک اُن کو ڈی سیٹ کرنے سے قراردادوں پر فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک وہ ایوان میں نہیں آئیں گے۔

قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے اس معاملے پر پارلیمانی لیڈروں کو اپنے چیمبر میں طلب کر لیا ہے جس میں پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا جائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام اور متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے اُنھیں ڈی سیٹ کرنے سے متعلق ایوان میں جمع کروائی گئی قراردادوں پر رائے شماری کی جائے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وہ سنہ 2013 کے انتحابات میں مبینہ دھاندلی کی تحققیات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل کے بارے میں حکومت سے کیے گئے ایک معاہدے کے تحت قومی اسمبلی میں واپس آئے ہیں اور اُن کی جماعت پارلیمان میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔

بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت ’معذرت خواہانہ رویہ نہیں اپنائے گی، پی ٹی آئی کے ارکان منتخب ہو کے آئے ہیں۔‘

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وزیر اعظم کے ساتھ اُن کی حالیہ ملاقات میں قرارداد واپس لینے کے بارے میں رسمی بات ہوئی تھی
،تصویر کا کیپشنمولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وزیر اعظم کے ساتھ اُن کی حالیہ ملاقات میں قرارداد واپس لینے کے بارے میں رسمی بات ہوئی تھی

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ان قراردادوں پر کوئی نتیجہ آنے کے بعد ان کی جماعت یہ فیصلہ کرے گی کہ انھوں نے اپنا کردار پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر ادا کرنا ہے یا عوام میں جانا ہے۔

اس سے پہلے جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں قرارداد واپس لینے کے لیے اپنی جماعت سے مزید مشاورت کے لیے وقت چاہیے۔ اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے ساتھ اُن کی حالیہ ملاقات میں مسئلہ کشمیر اور خطے کے دیگر امور پر بات ہوئی تھی جبکہ قرارداد واپس لینے کے بارے میں رسمی بات ہوئی تھی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پیر کے روز ایوان میں کہا تھا کہ جے یو آئی پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کے لیے اپنی قراداد واپس لے لے گی لیکن اس بارے میں اُن سے پہلےکوئی بات چیت نہیں کی گئی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کا معاملہ سیاسی نہیں بلکہ آئینی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ چونکہ یہ آئینی معاملہ ہے اس لیے اس قرارداد کو واپس لینے کے لیے آئینی ترمیم ایوان میں پیش کی جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ پارلیمنمٹ اور آئین کو خواہشات کے مطابق نہیں چلایا جا سکتا۔

فارق ستار کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کو اس قرارداد پر مشاورت کے لیے مزید وقت درکار ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفارق ستار کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کو اس قرارداد پر مشاورت کے لیے مزید وقت درکار ہے

فارق ستار کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کو اس قرارداد پر مشاورت کے لیے مزید وقت درکار ہے لہٰذا اس قراردار پر رائے شماری تین روز کے لیے ملتوی کر دی جائے۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کو اپنے اس رویے پر معافی مانگنی چاہیے جو اُنھوں نے دھرنے کے دوران ارکان پارلیمنٹ سے متعلق اپنایا تھا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے پہلے قومی اسمبلی کے سپیکر کے چیمبر میں سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہوا تھا جس میں جمعت علمائے اسلام اور متحدہ قومی موومنٹ کو قرارداد واپس لینے کی درخواست کی گئی تھی تاہم اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔