پی ٹی آئی کی رکنیت ختم کرنے کی قراردادوں پر رائے شماری موخر

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے حزبِ مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق پیش کی جانے والی قراردادوں پر رائے شماری چار اگست تک موخر کردی۔
یہ قراردادیں حکمراں اتحاد میں شامل جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) اور متحدہ قومی موومنٹ نے قومی اسمبلی کے ایوان میں پیش کیں ۔
ان قراردادوں کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے 28 اراکینِ قومی اسمبلی کے ناموں کی فہرست بھی شامل ہے۔
منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے آغاز میں ہی پی ٹی آئی کے اراکین کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق قراردادیں ایوان میں پیش کی گئی تاہم وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق سے استدعا کی کہ ان قرارددوں پر رائے شماری موخر کردی جائے اور اس معاملے کو پارلیمنٹ کے باہر حل کرلیا جائے گا۔
اُنھوں نے کہا کہ اس بارے میں جمعیت علمائے اسلام اور محتدہ قومی موومنٹ کی قیادت سے بات چیت کرکے اس معاملے کو افہام تفہیم کے ساتھ حل کرلیا جائے گا۔
’ڈی سیٹ کی تلوار‘

،تصویر کا ذریعہAFP
قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے اراکین پر ڈی سیٹ کرنے کی تلوار لٹکانا مناسب نہیں ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کو مل بیٹھ کر حل کر لیا جائے جس کے بعد قومی اسمبلی کے سپیکر نے ان قراردادوں پر رائے شماری چار اگست تک موخر کردی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق قرارداد پیش کرتے ہوئے جمیت علمائے اسلام کے رکن قومی اسمبلی آسیہ ناصر کا کہنا تھا کہ ملکی آئین میں یہ بات درج ہے کہ جو بھی رکن اسمبلی 40 روز تک بغیر اطلاع دیے اسمبلی کے اجلاس سے غیر حاضر رہتا ہے تو یہ قومی اسمبلی کے سپیکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے ایسے رکن کو ڈی سیٹ کردیں اور اس بارے میں الیکشن کمیشن کو بھی آگاہ کیا جائے تاکہ وہ خالی قرار دی جانے والی نشست پر ضمنی انتخاب کروائے۔
اس موقع پر متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی آصف حسنین نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے اراکینِ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنے میں موجودہ پارلیمنٹ کو دو نمبر اور حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ دھرنے میں اُن کا موقف درست تھا یا پارلیمنٹ میں۔‘
آصف حسنین کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کو قومی اسمبلی کا رکن نہیں سمجھتی۔
پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کا ارکان اب بھی خود کو قومی اسمبلی کا رکن سمجھتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اُن کی جماعت پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اگر ایوان ان قراردادوں پر رائے شماری کرواناچاہتا ہے تو اُنھیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔







