پاکستانی پرونے کا جوش

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانیوں کو ایک قومی لڑی میں کیسے پرویا جائے؟
ہر چار پانچ برس بعد اس سوال پر اچانک مباحثہ شروع ہوجاتا ہے اور کثیر النسلی، کثیر العقیدہ ، کثیر القومیت پاکستانیوں کو ایک بار پھر پاکستانی بنانے کے لیے کوئی نہ کوئی تبلیغی مہم شروع ہوجاتی ہے۔
اردو کو قومی زبان بنانے، مطالعہ پاکستان کے مضمون کو تعلیمی اداروں میں لازمی قرار دینے، ’سب سے پہلے پاکستان‘ کا نعرہ لگانے، یومِ آزادی تزک و احتشام سے منانے، پاکستان کے خفی و جلی دشمنوں کے ناموں کی گردان بار بار کرنے اور کروانے اور ’ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں‘ ٹائپ نغمے کمپوز ہونے کے بعد بھی کسی حکمراں کو تسلی نہیں ہوتی کہ پاکستانی ایک لڑی میں پروئے جا چکے ہیں۔
پچھلے ایک برس سے ایک بار پھر پاکستانیوں کو ایک لڑی میں پرونے کے لیے بہت سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جیسے سینما گھروں میں فلم شروع ہونے سے پہلے قومی ترانے پر تماشائیوں سے کھڑے ہونے کی درخواست ، پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلوں کو یہ ہدایت کہ دن کا آغاز قومی ترانے سے کیا جائے، ایسے پروگرام یا ڈرامے تیار کیے جائیں جن سے پاکستانیت کو فروغ ہو۔ ساتھ ہی ساتھ اعلیٰ عدلیہ کے احکامات پر اردو کو ایک بار پھر دفتری زبان بنانے کی تیرہویں کوشش بھی جاری ہے۔
ویسے ایک بات تو بتائیے! جب آپ کہتے ہیں کہ ہم سب پاکستانی ہیں، ہم سب ایک ہیں اور ہمیں تمام تعصبات سے بالاتر ہو کر صرف ایک پاکستانی کے طور پر سوچنا چاہیے تو اس کا مطلب ہے کیا؟
کیا یہ مطلب ہے کہ جو بچہ سکول نہیں جا پا رہا وہ بھی اپنے پاکستانی ہونے پر اتنا ہی فخر کرے جتنا سکول میں پڑھنے والا بچہ؟ یا کسی ہسپتال کے برآمدے کے فرش پر لیٹا مریض بھی اتنے ہی جوش سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائے جتنے جذبے سے اس کے سامنے سے گذرنے والا ڈاکٹر لگا رہا ہے؟ کیا جوتیاں چٹخانے والا ایم ایس سی بھی اسی طرح پاکستانی پرچم لہرائے جس طرح اس کی آنکھوں کے سامنے پرچی پر ملازمت حاصل کرنے والا سفارشی؟
تو کیا لاپتہ بیٹے کی ماں، اس کے برابر میں کھڑا سادہ کپڑوں والا، قاتل کو ضمانت پر رہا کرنے والا جج اور یہ منظر دیکھنے والا مقتول کا باپ، ٹیکس دینے والا کلرک اور اس سے گلے ملنے والا غریب ارب پتی رکنِ پارلیمان، اغوا شدہ بیٹی کا عیسائی باپ اور اسے دیکھ کر مسکرانے والا مولوی، سرحدوں پر دن رات جاگنے والا سنتری اور اس سنتری کے نام پر مراعات سیمٹنے والا افسر؟ کیا یہ سب کے سب ایک ساتھ کورس گائیں۔
اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب مہدی حسن نے کئی برس پہلے پہلی بار ’یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے‘ گایا تھا تو اسے سن کے چہرہ تمتما اٹھتا تھا اور رواں رواں کھڑا ہو جاتا تھا۔لیکن آج ’یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے‘ سن کے پاکستان کے بجائے دھیان جانے کیوں پی کیپ پر چلا جاتا ہے؟
آج کے نئے نئے پاکستانیوں کی پیدائش سے پہلے جن لوگوں، قوموں، صوبوں اور ریاستوں نے 68 برس قبل چند وعدوں اور امیدوں کی چھاؤں میں یہ ملک تشکیل دیا تھا کیا آپ انہیں بتانا چاہ رہے ہیں کہ پاکستان کیا ہے اور پاکستانیت کسے کہتے ہیں؟
یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی بچہ جوان ہو کر اپنی ماں سے کہے ’ماں میں تیری حفاظت کروں گا‘ اور ماں یہ سن کے بس مسکرا دے۔۔۔







