’فحاشی کے اڈے چلانے میں سفارت خانوں کے اہلکار ملوث‘

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں فحاشی کے اڈے چلانے میں مختلف سفارت خانوں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان میں وسطیٰ ایشیائی ریاستوں کی خواتین کافی عرصے سے مقیم ہیں جن کے پاس نہ تو کاغذات مکمل ہیں اور نہ ہی اُن کے پاس پاکستان میں رہنے کا کوئی جواز ہے۔

قومی اسمبلی میں غیر ملکیوں کے لیے ویزہ پالیسی اور نجی سکیورٹی کمپنیز سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ غیر قانونی طور پر مقیم خواتین کے نیٹ ورکنگ کی تحقیقات میں ایک مضبوط نیٹ ورک کا پتہ چلایا گیا۔جن میں بہت سے با اثر لوگ شامل تھے۔

تاہم چوہدری نثار علی خان نے ان افراد کے نام نہیں بتائے اور نہ یہ بتایا کہ ان افراد کے خلاف کیا قانونی کارروائی کی گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ نیٹ ورک وسطیٰ ایشائی ریاستوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو مشرق وسطیٰ کے سفارت خانے سے ویزے جاری کرواتا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو سفارت خانوں کے بارے میں سخت اقدامات اُٹھائے گئے اور اُنھیں واضح کیا گیا کہ اب یہ معاملات ایسے نہیں چلیں گے۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ چند روز قبل اسلام آباد میں ایسے غیر ملکیوں اور بلخصوص خواتین کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے جو عرصہ دراز سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں مقیم تھیں۔

اسلام آباد پولیس کے اہلکار کے مطابق غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن شروع کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے سربراہ طاہر عالم کو اس سے لاعلم رکھا گیا تھا جبکہ آپریشن کی ذمہ داری ڈی آئی جی آپریشن سلطان اعظم تیموری کو سونپی گئی۔

اہلکار کے مطابق وزیر داخلہ کو شک تھا کہ آئی جی کے دفتر کے کچھ اہلکار ان قحبہ خانوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات کو دیکھتے ہوئے ویزہ پالیسی میں بھی تبدیلی کی جا رہی ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نجی سکیورٹی کمپنیوں کے لیے بھی جلد ہی نئی پالیسی کا اعلان کر دیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ درجنوں ایسی نجی سکیورٹی کمپنیاں ہیں جن کے ملازمین کو بندوق چلانا تک نہیں آتا۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ایسی کمپنیوں کے ملازمین کو پولیس اور دیگر ادارے بلا معاوضہ تربیت دینے کو تیار ہیں۔