کم عمری کی شادی کے خلاف قرارداد کی حمایت کا مطالبہ

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل آئندہ ہفتے بچوں کی کم عمری میں یا جبری شادی سے متعلق ایک قرارداد پر غور کرنے والی ہے۔
قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں کم عمری اور جبری شادیوں کے خاتمے کے لیے سرگرم سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ایک اتحاد نے حکومت پاکستان سے اس قرارداد کی حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔
<link type="page"><caption> پاکستان میں نوعمری کی شادی کا رواج برقرار</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2014/09/140924_child_marriages_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> کم عمری کی شادیوں کے خلاف ایک تنہا آواز</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/03/150306_swat_antichild_marriage_campaign_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
توقع ہے کہ اس قرارداد میں نہ صرف بچوں کی شادیوں کے خاتمے کی حمایت کی جائے گی بلکہ اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی قرار دیا جائے گا۔
اتحاد کے ایک بیان کے مطابق یہ ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ ممالک دنیا کے کئی خطوں سے اس قرارداد کی سرپرستی کریں، خاص طور پر وہ ممالک جہاں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔
خیبر پختونِخوا اور قبائلی علاقوں میں کم عمری اور جبری شادی کے خاتمے کے اتحاد کے رابطہ کار اور قومی ایکشن کوارڈینیشن گروپ کے صوبائی رابطہ کار قمر نسیم کا کہنا تھا کہ اس قرارداد کی منظوری اس مسئلے پر عالمی سنجیدگی کا اظہار ہو گی۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اس قرارداد کی منظوری عالمی سطح پر اس مسئلے پر متفقہ حمایت پیدا کرنے میں مدد دے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قمر نسیم کا مزید کہنا تھا کہ کم عمری کی شادی روکنے کے لیے ہر سطح پر جامع کوششوں کی ضرورت ہوگی خصوصاً برادری کی سطح پر تاکہ رویے تبدیل کیے جا سکیں۔
اتحاد کے ایک رکن زار علی خان کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد حکومتوں کی اس مسئلے سے نمٹنے کی سنجیدگی کا اظہار ہو گی۔ ’اس کا خاتمہ نہ صرف اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ مثبت ترقی بھی ہے۔‘







