’دہشتگردی سے ہوئے نقصانات میں 32 فیصد کمی‘

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ پچھلے نو ماہ کے دوران پاکستان میں دہشتگردی سے ہونے والے مالی نقصانات میں قریباً 32 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ لگاتار چوتھا سال ہے کہ اس مد میں ہونے والے نقصانات میں کمی دیکھی گئی ہے۔
حکومت پاکستان کی طرف سے جاری کردہ سالانہ اقتصادی جائزے کے مطابق جولائی سنہ 2014 سے لے کر مارچ سنہ 2015 تک دہشتگردوں کے حملوں کے نتیجے میں ملک کو مجموعی طور پر لگ بھگ 458 ارب روپے کا مالی نقصان ہوا۔
گذشتہ مالی سال میں دہشتگردی سے ملک کو 681 ارب روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا تھا یوں پچھلے نو ماہ کے دوران دہشتگردی سے ہونے والا مالی نقصان پچھلے مالی سال سے 31.7 فیصد کم رہا۔
پاکستانی فوج نے پچھلے برس 15 جون کو شمالی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا تھا جو بدستور جاری ہے اور اس کا دائرہ ملک کے باقی ماندہ حصوں تک وسیع کر دیا گیا ہے۔
اقتصادی جائزہ کہتا ہے کہ پاکستان میں نائن الیون کے حملوں کے بعد مسلسل دس برسوں تک دہشتگردی کے باعث مالی نقصانات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو کم سے کم تین فیصد اور زیادہ سے زیادہ 75 فیصد تک رہا مگر مالی سال سنہ 2012-2011 سے اس میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔
جائزے کے مطابق ملک کو دہشتگردی کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات میں کمی مالی سال سنہ 2012-2011 میں تقریباً 50 فیصد، سنہ 2013-2012 میں 17 فیصد، سنہ 2014-2013 میں مزید 33 فیصد رہی۔
اقتصادی جائزے میں دیے گئے اعدادوشمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پچھلے 15 برسوں کے دوران دہشتگردی سے ہونے والے مالی نقصان کے لحاظ سے سنہ 2009 سے لے کر سنہ 2013 تک کا عرصہ بدترین رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
اس عرصے میں ملک کو کم سے کم 964 ارب روپے اور زیادہ سے زیادہ 1,136 ارب روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
ان اعدادوشمار کے مطابق دہشتگردی کے باعث پچھلے 14 برسوں کے دوران ملک کو مجموعی طور پر 87 کھرب دو ارب روپے کا مالی نقصان ہوا۔
اقتصادی جائزہ کہتا ہے ’پاکستان کو اپنی معیشت کی پیداواری استعداد بڑھانے کے لیے زبردست وسائل کی ضرورت ہے تاکہ وہ تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیرومرمت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکے۔‘
یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقبل میں ملک کے اندر سرمایہ کاری میں سکیورٹی کی صورتحال ہی فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔
جائزے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف متفقہ اقدامات کے باعث ملک میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال میں بہتری آئی ہے مگر پاکستانی معیشت کی مکمل بحالی اور استحکام کے لیے افغانستان اور خطے میں امن و استحکام بہت اہم ہے۔







