کوئٹہ میں تشدد جاری، چار افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیر کو دوسرے روز شہر میں تشدد کے تین مختلف واقعات میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔
ان واقعات کے بعد محکمۂ داخلہ حکومت بلوچستان نے شہر میں فوری طور پر ایک ہفتے کے لیے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی۔
تشدد کا پہلا واقعہ قندہاری بازار میں سہ پہر کو پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے چائے فروخت کرنے والی ایک دکان پر فائرنگ کر دی۔
سٹی پولیس سٹیشن کے ایک اہل کار نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہلاک جبکہ ایک راہگیر زخمی ہو گیا۔
اس واقعہ کے تین گھنٹے بعد نامعلوم مسلح افراد نے جناح روڈ پر سلیم کمپلیکس کے قریب ایک گاڑی پر فائرنگ کی جس میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد سوار تھے۔
فائرنگ سے گاڑی میں سوار دو افراد ہلاک اور دو خواتین سمیت چار افراد زخمی ہوئے۔ اس کے بعد نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے جناح روڈ پر زہری مسجد کے قریب دو افراد زخمی ہوگئے۔
دونوں زخمیوں کو سی ایم ایچ منتقل کیا گیا جہاں ایک شخص زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔
زہری مسجد کے قریب فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شخص کا تعلق ہزارہ قبیلے سے نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تشدد کے ان واقعات کے باعث شہر میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی پھیل گئی اور علاقوں میں کاروباری مراکز بند رہے۔
تشدد کے واقعات کے خلاف ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے افراد نے آئی جی پولیس کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
خیال رہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے کراچی سے متصل علاقے حب میں اتوار کی شب بم کے ایک دھماکے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 11زخمی ہوگئے تھے۔
حب میں ایک پولیس اہل کار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دھماکے کے وقت صدر ممنون حسین کے صاحبزادے کا قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا۔
پولیس اہل کار کے مطابق یہ قافلہ صدر ممنوں حسین کے بیٹے کا تھا جو اس وقت حب کے علاقے سے کراچی کی جانب جا رہا تھے۔







