’اسماعیلیوں کی بس اور سبین محمود پر حملے کے منصوبہ ساز گرفتار‘

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبے سندھ کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے میں گرفتار کیے گئے ملزمان سماجی کارکن سبین محمود کے قتل میں بھی ملوث ہیں۔
یہ بات وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بدھ کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔
اسماعیلی برادری کی بس پر حملے میں 47 افراد کی ہلاکت کا واقعہ رواں ماہ ہی صفورا چورنگی کے علاقے میں پیش آیا تھا جبکہ سبین محمود کو گذشتہ ماہ ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کے علاقے میں ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا تھا۔
وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ مجرموں کا یہ گروہ 15 سے 20 افراد پر مشتمل ہے <link type="page"><caption> جن میں سے چار کو گرفتار کیا گیا ہے۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/05/150519_karachi_attackers_fz" platform="highweb"/></link>
وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان میں طاہر حسین منہاس عرف سائیں عرف نذیر عرف زاہد، سعد عزیز عرف ٹن ٹن عرف جون، محمد اظہر عشرت عرف ماجد اور حافظ ناصر حسین عرف یاسر شامل ہیں۔
ان ملزمان میں سے طاہر حسین کو اسماعیلیوں کی بس پر حملے اور سعد عزیز کو سبین محمود کے قتل کا منصوبہ ساز قرار دیا گیا ہے۔
قائم علی شاہ نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے ملزمان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور ان میں انجینیئر اور کراچی یونیورسٹی کے طالب علم بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سبین محمود کے قتل کا ماسٹر مائنڈ سعد عزیز ایک نجی یونیورسٹی سے الیکٹرونکس انجینیئرنگ کر چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سعد عزیز کراچی یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کا فارغ التحصیل ہے جبکہ اس کا ساتھی محمد اظہر عشرت نامی ملزم الیکٹرونکس انجینیئر ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اس کے علاوہ ایک اور ملزم حافظ ناصر حسین نے بھی کراچی یونیورسٹی سے ہی ایم اے اسلامیات کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ مذکورہ دو کارروائیوں کے علاوہ یہ گروہ امریکی شہری ڈیبرا لوبو، نیوی افسر پر بم حملے، رینجرز کے بریگیڈیئر باسط پر خودکش حملے، بوہری جماعت خانے کے باہر بم دھماکے سمیت پولیس افسران کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ملزمان سے پولیس نے تین کلاشنکوف، سات نائن ایم ایم پستول، پانچ دستی بم، دھماکہ خیز مواد اور لٹریچر برآمد کیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ہی اسلحہ بس حملے میں بھی استعمال کیا گیا۔
صوبائی حکومت نے چاروں ملزمان سے تفتیش کے لیے جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم کی تشکیل کا بھی اعلان کیا جو ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرے گی۔
سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ کے بعد ملزمان کی وابستگی ظاہر کی جائےگی۔
بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ملوث ہونے کے بیان پر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے لے کر یہاں تک ’را‘ کی سرگرمی تو رہی ہے، یہاں کئی گھناؤنے واقعات ہوچکے ہیں تاہم انھوں نے حتمی طور نہیں کہا تھا کہ اس واقعے میں ’را‘ ملوث ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے ملزمان کو گرفتار کرنے والی پولیس ٹیم کے لیے پانچ کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا اور کہا کہ ان اہلکاروں کی ترقی پر بھی غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان میں ایک اہم ملزم بھی شامل ہے، جس کی اداروں کی طویل عرصے سے تلاش تھی تاہم انھوں نے اس کا نام ظاہر نہیں کیا۔







