ہمیں پاکستان اور کراچی کی سیکیورٹی عزیز ہے: چوہدری نثار

غیر قانونی تارکین وطن کی رجسٹریشن کے لیے کام کرنے والے ادارے ’نارا‘ کی کارکردگی صفر تھی

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنغیر قانونی تارکین وطن کی رجسٹریشن کے لیے کام کرنے والے ادارے ’نارا‘ کی کارکردگی صفر تھی
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کا کہنا ہے کہ اسماعیلی برداری کی بس پر حملہ کے شبہ میں گرفتار چند افراد سے جو تفتیش ہوئی ہے وہ کافی مثبت ہے، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم درست سمت میں ہیں۔

گذشتہ ہفتے اسماعیلی برداری کی بس پر حملے کے نتیجے میں 45 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

چوہدی نثار نے پیر کو کراچی میں ڈی جی رینجرز کی بریفنگ کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ اور گورنر ڈاکٹر عشرت العباد سے بھی ملاقاتیں کیں۔

ان ملاقاتوں کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثار علی کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعے کے ذمہ دار فوکس میں آچکے ہیں۔تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ اصل حملہ آور تک پہنچ چکے ہیں۔

وفاقی وزیر نے صحافیوں کو مشورہ دیا کہ وہ جلدبازی نہ کریں اور انٹلی جنس اداروں کو وقت دیا جائے۔ اس معاملے میں اہم تفیتش کرنا ہوگی کیونکہ اس کے مختلف رخ ہیں صرف میڈیا کے ذریعے بیان دینا یا کوئی دعویٰ کردینا مناسب نہیں۔

چوہدری نثار علی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ٹی ٹوئنٹی یا 50 اوور کا کرکٹ میچ نہیں ہے، سالہا سال اس پر توجہ نہیں دی گئی ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سنہ 2011 اور 12 شدید ترین سال تھے جب ملک کے ہر علاقے میں دھماکے ہو رہے تھے، موجودہ حکومت نے پہلی بار کوشش کی کہ اس کا علاج ڈھونڈھا جائے۔

’جون 2014 سے اب تک 10 ہزار سے زائد آپریشن انٹلی جنس بنیادوں پر کیے گئے ہیں۔ جن میں 36 ہزار سے زائد گرفتاریاں ہوچکی ہیں، ان کارروایوں میں فوج کے علاوہ، ایف سی، پولیس اور دیگر سول ادارے شامل ہیں، اس عرصے میں کئی ممکنہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔‘

گذشتہ ہفتے اسماعیلی برداری کی بس پر حملے کے نتیجے میں 45 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ہفتے اسماعیلی برداری کی بس پر حملے کے نتیجے میں 45 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے

وفاقی وزیر چوہدری نثار نے نجی سیکیورٹی ایجنسی کو لائسنس جاری کرنے پر نظر ثانی کرنے اور انھیں جوابدہ بنانے کا بھی مشورہ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں تین سو سے زائد سیکیورٹی ایجنسیاں موجود ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں بھرتیاں ہیں لیکن انھیں پولیس اور دیگر اداروں کی جو مدد کرنی تھی وہ نہیں کر پا رہی ہیں اور ان کے پاس تربیت کی بھی کمی ہے۔

چوہدری نثار نے بتایا کہ اسلحہ کے لائسنس کی مشترکہ پالیسی بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے چاروں صوبائی وزرا اعلیٰ کا اسلام آباد میں جلد اجلاس طلب کیا جائے گا۔

کراچی میں غیر قانونی تارکین وطن کے مستقبل کے بارے میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

’ہمیں پاکستان اور کراچی کی سیکیورٹی عزیز ہے اب غیر قانونی تارکین وطن کو ریاست قبول کرے یا وہ واپس چلے جائیں اس پر سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے۔‘

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن کی رجسٹریشن کے لیے کام کرنے والے ادارے ’نارا‘ کی کارکردگی صفر تھی۔ اب انھیں نادار میں ضم کردیا گیا ہے لیکن انھیں کچھ وقت درکار ہے۔