سماجی کارکن سبین محمود کے قتل کا مقدمہ درج

،تصویر کا ذریعہna
- مصنف, حسن کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی پولیس نے ڈیفنس تھانے میں سماجی کارکن اور دا سیکنڈ فلور کی ڈائریکٹر سبین محمود کے قتل کا مقدمہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کرلیا ہے۔ یہ مقدمہ ان کی والدہ مہناز محمود کی مدعیت میں درج کیاگیا ہے۔
سبین محمود کی آخری رسومات کراچی میں ادا کی دی گئی ہیں۔
کراچی میں گزشتہ رات سبین محمود کو ڈیفنس کے علاقے میں واقع ڈیفنس لائبریری کے قرب گولیاں مارکر ہلاک کر دیاگیا تھا۔
ڈیفنس تھانے کے ایس ایچ او کینسن دین کے مطابق سبین محمود اپنی والدہ کے ساتھ رات ساڑھے نو بجے کے بعد ڈیفنس میں واقع سی سیکنڈ فلور میں ہونے والے گمشدہ بلوچ افراد کے بارے میں ایک پروگرام میں شرکت کے بعد گھر جا رہی تھیں کہ ڈیفنس لائبریری کے قریب سنگل پر جب ان کی گاڑی رکی تو دائیں جانب سے ایک موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نےان پر فائرنگ کردی جس سے سبین محمود اور ان کی والدہ دونوں زخمی ہوگئیں ۔
انھیں قریب ہی واقع نیشنل میڈیکل سینٹر لے جایاگیا تاہم سبین محمود راستے ہی میں دم توڑ گئیں۔
سبین محمود کی والدہ مہناز محمود کو بعد ازاں آغا خان ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
سبین محمود کی والدہ مہناز محمود کے پولیس کو دیے گئے بیان کے مطابق انھیں گزشتہ ڈیڑھ سال سے مختلف تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں جس کے بارے میں وہ پولیس کو زبانی طور پر کئی بار آگاہ کرچکی تھیں۔
جناح ہسپتال کی میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر نسرین قمر کے مطابق سبین محمود کو چار گولیاں ماری گئیں جو ان کے جبڑے، گردن ، کندھے اور پسلی میں لگیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
یاد رہے کہ اس پروگرام میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے ماما قدیربلوچ کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے اسی قسم کا ایک پروگرام لاہور کی نجی یونیورسٹی، لمز میں ملک کے سکیورٹی اداروں کی ایما پر منسوخ کردیاگیا تھا۔
وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے سبین محمود کے قتل کی مذمت کی ہے اور اس واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں سبین محمود کے قتل کی مذمت کی ہے۔
انھوں نے لکھا کہ ’ہم سبین محمود کے المناک اور افسوسناک قتل کی مذمت کرتے ہیں۔ اس افسوناک موقع پر ہمارے دل غم زدہ خاندان کے ساتھ ہیں۔‘
انہوں نے اپنے بیان میں مزید بتایا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کو اپنی تمام معاونت تحقیقاتی اداروں کو دینے کا ٹاسک دیاگیا ہے تاکہ مجرموں کو پکڑا جا سکے اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
جبکہ امریکہ کی جانب سے بھی سبین محمود کے قتل کی مذمت کی گئی ہے اور ان کی موت کو ایک عظیم نقصان قراردیاگیا ہے۔
سبین محمود کے قتل کے خلاف ملک میں شدید ردِ عمل ظاہر کیا گیا ہے اور سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ہزاروں افراد نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔







