لاہور کی نجی یونیورسٹی میں بلوچستان پر سیمینار منسوخ

،تصویر کا ذریعہbbc
- مصنف, صبا اعتزاز
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں جمعرات کے روز بلوچستان کے مسئلے پر ہونے والے سیمینار کو غیر معمولی حالات کے تحت منسوخ کر دیا گیا۔
سیمنار کے منتظمین کے مطابق ان کا پروگرام ریاستی سینسرشپ کی نظر ہوا ہے۔
<link type="page"><caption> لانگ مارچ کے ایک برس بعد بھی کچھ نہیں بدلا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/02/150227_balochistan_long_march_mama_qadir_tk" platform="highweb"/></link>
جمعرات کو منعقد ہونے والے اس سیمینار میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور نامور صحافیوں کے علاوہ بلوچ انسانی حقوق کے کارکن ماما قدیر نے بھی شامل ہونا تھا۔
واضح رہے کہ ماما قدیر، جو گمشدہ بلوچ افراد کی بازیابی کی مہم میں سب سے آگے دکھائی دیتے ہیں، ان پر حال ہی میں حکومت نے ملک سے باہر سفر کرنے پر بھی پابندی لگائی تھی۔
یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ کا دعویٰ ہے کہ حساس انٹیلی جنس ادارے کے ارکان نے کیمپس پر آ کر ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پر دباؤ ڈالا کہ موضوع کی حساسیت کی وجہ سے سیمینار کو منسوخ کر دیا جائے۔
یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور انسانی حقوق کے کارکن ڈاکٹر تیمور رحمان نے کہا کہ اس قسم کی مداخلت آزاد تعلیمی ماحول کی عین خلاف ورزی ہے۔
’ہم ریاست کے خلاف کوئی سرگرمی نہیں کر رہے تھے بلکہ یہ بلوچستان کے مسئلے پر گفتگو اور بحث اور مباحثے کا موقع تھا۔ یہ مداخلت تعلیم کی آزادی پر ضرب ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سربراہ آئی اے رحمان نے کہا کہ یہ عمل ان شواہد میں سے ایک ہے کہ ملک میں سینسر شپ کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے اور آزادی رائے کی فضا سکڑ رہی ہے۔
انھوں نے کہا ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک میں گفتگو کی جگہ کم ہو رہی ہے، خاص طور پر ملک کی اقلیتیوں اور کمزور طبقوں کے بارے میں بات کرنا مشکل ہو گیا ہے۔‘

آئی اے رحمان نے کہا کہ اس کے لیے ایجنسیوں سے زیادہ حکومت بھی ذمہ دار ہے اور اس سے ملک کے اندرونی حالات اور خراب ہوں گے۔
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے طلبہ نے اس مداخلت کے خلاف سوشل میڈیا پر خوب آواز بلند کی۔ کیمپس کے گراؤنڈ پر سیمینار کا اعلان کرنے والا پلے کارڈوں کی نمائش کی گئی جس پر سیمینار کا عنوان تھا: ’بلوچستان پر خاموشی توڑیے،‘جس کو کاٹ کر طنز کے طور پر لکھا گیا: ’بلوچستان پر خاموشی قائم، سینسرڈ بائی آئی ایس آئی۔‘
دوسری جانب سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کا ایک اور رخ بھی نظر آیا جنہوں نے ہیش ٹیگ ’شیم آن لمز‘ کے ساتھ لمز کے اس سیمینار کی مذمت کی اور کہا کہ یونیورسٹی قومی مفاد کے خلاف حرکت کرنے جا رہی تھی۔
یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ وائس چانسلر کے ساتھ ملاقات کے بعد اس معاملے پر اجتماعی بیان جاری کرے گی۔







