پاکستانی فوج کی جانب سے سبین محمود کے قتل کی مذمت

سبین محمود نے کراچی میں ٹی ٹو ایف یعنی دی سیکنڈ فلور کے نام سے ایک کیفے اور گوشۂ گفتگو قائم کیا تھا

،تصویر کا ذریعہThe News

،تصویر کا کیپشنسبین محمود نے کراچی میں ٹی ٹو ایف یعنی دی سیکنڈ فلور کے نام سے ایک کیفے اور گوشۂ گفتگو قائم کیا تھا

پاکستانی فوج کے ترجمان نے معروف سماجی کارکن سبین محمود کے قتل کی مذمت کی ہے اور بتایا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کو تحقیقاتی اداروں کی معاونت کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ جمعے کو کراچی میں سبین محمود کو نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا جبکہ اس حملے میں ان کی والدہ زخمی ہوئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں سبین محمود کے قتل کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے لکھا ہے ’ہم مسِ سبین محمود کے المناک اور افسوسناک قتل کی مذمت کرتے ہیں۔ اس افسوناک موقع پر ہمارے دل غم زدہ خاندان کے ساتھ ہیں۔‘

پاکستانی فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید بتایا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کو اپنی تمام معاونت تحقیقاتی اداروں کو دینے کا ٹاسک دیا گیا ہے تاکہ مجرموں کو پکڑا جا سکے اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

سبین محمود نے دی سیکنڈ فلور کے نام سے کراچی میں ایک گوشۂ گفتگو قائم کیا تھا۔

’والدہ کے بیان کے بعد ایف آئی آر‘

ڈیفینس تھانے کے ایس ایچ او کینسن ڈین نے بی بی سی کو بتایا کہ سبین محمود پر جمعے کو ہونے والے حملے میں انھیں چار جبکہ ان کی والدہ کو دو گولیاں لگیں تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’جب سبین محمود کی والدہ پولیس میں بیان دیں گی تو اس کے بعد ہی ایف آئی آر کٹےگی۔‘

خیال رہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے سبین محمود کو جمعے کی شب اس وقت نشانہ بنایا جب وہ جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے بلوچ افراد کی بازیابی کے لیے سرگرم ماما قدیر کے ساتھ ایک نشست کے بعد اپنی والدہ کے ہمراہ باہر نکلی تھیں۔

سبین محمود کی والدہ کراچی کے آغا خان ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

حملے کے بعد سبین کو ہسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

سبین محمود نے خود پر حملے سے کچھ ہی دیر پہلے اپنے انسٹا گرم اکاؤنٹ پر ایک تصویر جاری کی جس میں اس نشست جس کا عنوان Unsilencing Balochistan Take 2 تھا جس کے شرکا ماما قدیر، فرزانہ مجید اور میر محمد علی تالپور تھے۔

سبین محمود کو اس قبل دھمکیاں موصول ہوتی رہی تھیں جن میں طالبان کی جانب سے ملنے والی دھمکیاں بھی تھیں۔

خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم نے سبین کے قتل پر ان کے اہلِ خانہ سے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی ٹوئٹر پر سبین محمود کا نام کئی گھنٹوں پر سب سے اوپر ٹرینڈ کرتا رہا اور ہزاروں افراد اس کے بارے میں اپنے تبصرے شیئرکیے جن میں غم، غصے کا اظہار کیاگیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سبین محمود کا قتل بہیمانہ ہے اور مطالبہ کیا کہ ان کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔

سبین محمود کے انسٹا گرام پر شیئر کی جانے والی آخری تصویر

،تصویر کا ذریعہInstagram

،تصویر کا کیپشنسبین محمود کے انسٹا گرام پر شیئر کی جانے والی آخری تصویر

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا قتل پاکستان کے لیے اچھی بات نہیں اور اس کی فوری تحقیقات کی جائیں۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اپنی ٹویٹ میں اس قتل کی مذمت کی اور لکھا کہ ’سبین محمود کا قتل ہولناک اور خوفناک اور اس کی شدید مذمت کرتا ہوں یقیناً بزدل ہیں جو عورت کو نشانہ بناتے ہیں۔‘

مصنفہ کاملہ شمسی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’دو سال قبل میں نے سبین سے کہا تھا کہ اسے احتیاط کرنے کی ضرورت ہے اور انہوں نے جواب دیا ’کسی کو تو لڑنا ہے‘۔ الوداع میری دوست آپ ہم میں سے بہترین تھیں۔‘