’شوال میں دو دن میں دوسرا ڈرون حملہ، چار ہلاک‘

پاکستان میں گذشتہ 11 سالوں کے دوران ایک اندازے کے مطابق امریکی جاسوس طیاروں کی جانب سے چار سو کے قریب ڈرون حملے کیے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں گذشتہ 11 سالوں کے دوران ایک اندازے کے مطابق امریکی جاسوس طیاروں کی جانب سے چار سو کے قریب ڈرون حملے کیے گئے ہیں

پاکستانی حکام کے مطابق ملک کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے ایک حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ حملہ پیر کو پاک افغان سرحد کے قریب تحصیل شوال کے علاقے زوئے نارے میں کیا گیا۔

یہ شوال میں دو دن میں ہونے والا دوسرا ڈرون حملہ تھا جس میں پی ٹی وی کے مطابق ڈرون طیارے نے چار میزائلوں سے ایک مکان کو نشانہ بنایا۔

حملے میں مکان تباہ ہوگیا اور اس میں موجود کم از کم چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب پیر کو ہی پاکستان نے ایک بار پھر یہ حملے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کی فوج دہشت گردوں کے خلاف ضربِ عضب میں مصروف ہے اور حکومت قبائلی علاقوں میں دوبارہ آباد کاری پر توجہ دے رہی ہے،<link type="page"><caption> ڈرون حملے مقامی آبادی میں عدم اعتماد کا باعث ہیں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/05/150518_pakistan_drone_protest_sh.shtml" platform="highweb"/></link>۔

شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال جون میں پاکستان فوج کی طرف سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا۔

اس آپریشن کے نتیجے میں فوج کا دعویٰ ہے کہ ایجنسی کے 90 فیصد علاقے کو عسکری تنظیموں سے صاف کردیا گیا ہے تاہم دور افتادہ سرحدی علاقوں شوال اور دتہ خیل میں بدستور کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہgetty

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہو چکے ہیں

یہ بات بھی قابل ذکر ہےکہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے شروع ہونے کے بعد سے امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں کافی حد تک کمی دیکھی گئی تاہم وقفوں وقفوں سے حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

پاکستان میں گذشتہ 11 سالوں کے دوران ایک اندازے کے مطابق امریکی جاسوس طیاروں کی جانب سے چار سو کے قریب ڈرون حملے کیے گئے ہیں جس میں سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ مرنے والوں میں بیشتر شدت پسند بتائے جاتے ہیں۔

پاکستان امریکی ڈرون حملوں کو ملکی سلامتی اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکہ سے متعدد بار سفارتی سطح پر احتجاج کر چکا ہے جبکہ امریکہ ڈرون حملوں کو شدت پسندوں کے خلاف موثر ہتھیار قرار دیتا ہے۔

پاکستان میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج بھی کر چکی ہیں۔

گذشتہ ماہ اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے امریکی ڈرون حملوں میں ہلاکتوں سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران پولیس کے سربراہ کو حکم دیا تھا کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے پاکستان میں سربراہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔