’فاٹا میں پولیو کے کیسوں میں 86 فیصد تک کمی‘

،تصویر کا ذریعہbbc
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات میں محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ فاٹا میں گذشتہ پانچ ماہ کے دوران پولیو کے کیسز میں 86 فیصد تک کمی آئی ہے جبکہ پولیو قطروں سے انکار کرنے والے افراد کی تعداد میں بھی کافی حد تک کمی دیکھی جا رہی ہے۔
قبائلی علاقہ جات میں پولیو کے روک تھام کے ادارے ایمرجنسی آپریشن سنٹر فاٹا کے سربراہ ڈاکٹر عالمگیر خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں میں گذشتہ چند ماہ کے دوران پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں کافی حد تک کمی آئی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس بیماری پر بہت جلد قابو پا لیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ پچھلے سال قبائلی علاقوں سے کل 179 پولیو کے کیس سامنے آئے تھے لیکن رواں سال کے پہلے پانچ مہینوں کے دوران اب تک پولیو کے صرف چھ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سنہ 2014 میں مئی کے آخر تک کل 55 بچے پولیو کا شکار بنے تھے۔
ڈاکٹر عالمگیر کے مطابق شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسیوں میں فوجی کارروائیاں شروع ہوجانے کے بعد سے حالات بہتر ہوئے ہیں اور ان علاقوں تک رسائی بڑھی ہے جہاں پہلے پولیو ٹیموں کا آزادانہ طور پر کام کرنا ناممکن تھا۔
ان کے بقول فاٹا میں پہلے سب سے زیادہ پولیو کے شکار شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی سے سامنے آتے تھے تاہم ان علاقوں میں آپریشن کی وجہ سے بیشتر آبادی بے گھر ہو چکی ہے جس سے بچوں کو قطرے پلانا آسان ہوگیا ہے ۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ڈاکٹر عالمگیر کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بھی پولیو کے روک تھام کے سلسلے میں مشترکہ کوششیں کیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ پولیو قطروں سے انکار کرنے والے والدین کی تعداد میں بھی کافی حد تک کمی دیکھی گئی ہے جس سے اس بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد کم ہو رہی ہے۔
ادھر دوسری طرف فاٹا اور خیبر پختونخوا کے 11 اضلاع میں آج سے تین روزہ پولیو مہم کا اغاز کر دیا گیا ہے۔ اس مہم کے دوران تمام قبائلی علاقوں اور صوبے کے اضلاع بنوں، چارسدہ، ڈی آئی خان، ہنگو، کرک، لکی مروت، مردان، نوشہرہ، صوابی، ٹانک اور تورغر میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ پاکستان میں گذشتہ چند سالوں کے دوران پولیو کے سب سے زیادہ کیس قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا سے سامنے آتے رہے ہیں۔
فاٹا میں حکومتی عمل داری نہ ہونے وجہ سے بیشتر علاقوں میں پولیو کارکنوں کو کام کرنا مشکل تھا یا ان پر حملے ہوتے رہے ہیں جس کے باعث ان علاقوں میں اس بیماری پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس بیماری کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ والدین کی جانب سے قطروں سے انکار یا بعض مذہبی افراد کی جانب سے اس کے خلاف پراپیگنڈا بھی بتایا جاتا ہے، تاہم حکومت نے اب پولیو مہم میں رکاوٹ ڈالنے والے افراد کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے اور گذشتہ چند ماہ کے دوران کئی افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔







