ارے تو پہلے بتانا تھا نا!

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
چاچا احمد بخش کی آنکھیں چلی گئی مگر شوقِ اخبار بینی نہ گیا۔ بس اتنا ہے کہ پہلے وہ خود پڑھ لیتا تھا۔ اب صرف اخبارخریدتا ہے تاکہ مجھ سمیت کوئی بھی پڑھ کے سنا دے۔ ہاں بھئی خان جی شروع ہوجاؤ ۔
’اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے نمائندے وین ڈی کلوو نے کہا ہے کہ بمباری سے اب تک جو 1400 کے لگ بھگ لوگ ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں ان میں سے تین چوتھائی عام شہری ہیں۔ واحد بین الاقوامی ائیرپورٹ بھی مسلسل فضائی حملوں کی زد میں ہے اس لئے بیرونی طبّی امداد و عملےاور خوراک کی ترسیل بہت مشکل ہو گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے نمائندے کا کہنا ہے کہ ایسی بلاتفریق بمباری بین الاقوامی قوانین کی پامالی ہے۔
ادھر صعدہ کے شمالی علاقے کے الگمہری کے سپتال میں موجود ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم ایم ایس ایف کی اہل کار ٹیریسا سینکرس ٹووول نے کہا ہے کہ پچھلی رات ایک 140 سے زائد فضائی حملے ہوئے۔ ارد گرد کے علاقوں میں طیاروں سے اشتہار بھی گرائے گئے کہ شہری فوراً صعدہ کا پورا علاقہ چھوڑ دیں کیونکہ اب سے یہ پورا خطہ فوجی ہدف تصور کیا جائے گا۔
مگر علاقے میں چونکہ پٹرول کی سخت کمی ہے اس لئے ہزاروں شہری جان بچانے کے لئے بال بچوں سمیت پیدل ہی چل پڑے۔
ٹیریسا کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران بیسیوں شہری ٹھکانے بھی بلا امتیاز بمباری کا نشانہ بنے۔

ادھر ایک فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ صعدہ اور حاجا پر ہونے والے تازہ فضائی حملے سرحد پار سے کی جانے والی اشتعال انگیز گولہ باری سے دس شہریوں کی ہلاکت کا جواب ہے۔ فوجی ترجمان نے12 مئی سے پانچ روزہ عارضی جنگ بندی کی بھی پیش کش کی ہے مگر مخالف ملیشیا کے ترجمان محمد البخاتی نے کہا کہ ہفتہ بھر پہلے بھی فضائی حملے روکنے کا یکطرفہ اعلان ہوا تھا لیکن صرف چھ گھنٹے بعد ہمارے شہریوں کو پھر سے نشانہ بنانے کا آغاز ہوگیا۔
دریں اثنا عالمی ادارہِ صحت کے مطابق اس وقت 60 فیصد سے زائد آبادی کو خوراک، صاف پانی، علاج معالجے اور صحت و صفائی کی سہولتوں سمیت بنیادی امداد کی ہنگامی ضرورت ہے۔ غذائی قلت کے نتیجے میں اجناس کی قیمتوں میں پانچ گنّا تک اضافہ ہوگیا ہے۔ ناکہ بندی اور مسلسل فضائی حملوں کے سبب طبّی رسد خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے۔ کئی جنوبی علاقوں سے ریڈ کراس کا عملہ بھی واپسی پر مجبور ہوگیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بمباری سے اب تک جو سویلین ڈھانچہ تباہ ہوا ہے اس میں پانچ ہسپتال بھی شامل ہیں۔ پچھلے چھ ہفتے سے جاری اس فوجی کاروائی کے سبب اب تک کم ازکم ڈھائی لاکھ شہری دربدر ہوچکے ہیں۔
انسانی حقوق کے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے تین مستقل ارکان یعنی امریکہ، برطانیہ اور فرانس فوری جنگ بندی کروانے اور لاکھوں متاثرین تک انسانی امداد کی ہنگامی ترسیل یقینی بنانے کے بجائے جارح کا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ دو دیگر مستقل ارکان یعنی روس اور چین نے لاتعلقی کا رویہ اپنا رکھا ہے۔ لہذا آنے والے دنوں میں یہ انسانی بحران مزید ہولناک ہونے کا حقیقی خدشہ ہے۔۔۔۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
چاچا احمد بخش نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے رکنے کو کہا اور اپنی بے نور آنکھوں سے بہنے والے آنسو آستین سے پونچھتے ہوئے بولے:
’یار کیا ہم لوگ ہمیشہ اتنے ہی بے بس اور بے غیرت رہیں گے۔ کیا کوئی ان یہودیوں کا ہاتھ روکنے والا نہیں۔ اس اسرائیل پر آخر کب آسمان سے قہر نازل ہوگا۔ اور کتنے مظلوم فلسطینیوں کی آہیں چاہئیں۔ یا اللہ اب تو ہی کچھ کر۔ آخر ظالم کی رسی اور کتنی دراز ہوگی۔۔۔‘
میں نے کہا چ۔۔چاچا احمد بخش یہ اسرائیل اور غزہ کی خبر نہیں۔ یہ یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی حوثیوں کے خلاف کاروائی کی تازہ تفصیل ہے۔
نابینا احمد بخش کا چہرہ جہاں تھا ایک منٹ کے لئے وہیں ساکت ہوگیا۔ اور پھر اس کے منہ سے بہت بے یقینی سے نکلا ” اچ ۔۔۔اچھاآآآآ۔۔۔ ارے تو خان جی پہلے بتانا تھا نا۔ لاحول ولا قوت ، تم بھی بادشاہ آدمی ہو ۔۔۔بس اب جاؤ خان جی ۔تمہیں بھی تو کام سے دیری ہورہی ہوگی نا۔ باقی خبریں پھر کسی وخت کسی اور سے پڑھوا لوں گا۔۔اب جاؤ آپ۔‘







