سندھ مڈل تعلیم کے لحاظ سے ’بدترین‘ صوبہ

قومی درجہ بندی میں آخری پچاس میں سے بائیس اضلاع صوبہ سندھ کے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنقومی درجہ بندی میں آخری پچاس میں سے بائیس اضلاع صوبہ سندھ کے ہیں
    • مصنف, ظہیرالدین بابر
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس، اسلام آباد

پاکستان میں جاری ہونے والی ایک سالانہ رپورٹ کے مطابق، آٹھویں جماعت تک کی تعلیم کے لحاظ سے صوبہ سندھ ملک کا بدترین خطہ ہے۔

یہ رپورٹ الف اعلان اور ایس ڈی پی آئی نامی غیر سرکاری تنظیموں نے مشترکہ طور پر جاری کی ہے جس میں پرائمری اور مڈل تعلیم کے سرکاری سکولوں کے لحاظ سے ملک بھر کے اضلاع کی الگ الگ درجہ بندی کی گئی ہے۔

درجہ بندی کے لیے میں بچوں کے داخلے، سیکھنے کا معیار، تکمیل اور صنفی مساوات جیسے پیمانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر ضلعے کو تعلیمی سکور دیا گیا ہے۔

اِس غیر سرکاری سالانہ رپورٹ کو ترتیب دینے کے لیے سرکاری اداروں کی جانب سے فراہم کیے گئے اعداد و شمار استعمال کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں پاکستان کو اسلام آباد سمیت آٹھ خطوں میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں آٹھویں جماعت تک کی تعلیم کے لیے 143 اضلاع کی درجہ بندی کی گئی ہے۔

قومی درجہ بندی میں آخری پچاس میں سے بائیس اضلاع صوبہ سندھ کے ہیں۔ صوبے کے کُل چوبیس میں سے صرف دو اضلاع، کراچی اور حیدرآباد مڈل سکولوں کی درجہ بندی میں بالاترتیب پینتالیسویں اور اڑتالیسویں نمبر پر آئے ہیں۔

مڈل سکولوں کے اعتبار سے تیار کی گئی فہرست میں صوبہ سندھ کے نوے فیصد سے زائد جبکہ صوبہ بلوچستان کے اکتیس میں سے چودہ، یعنی پینتالیس فیصد اضلاع آخری پچاس میں شامل ہیں۔

دونوں صوبوں کی نسبت، وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں یعنی فاٹا میں مڈل سکولوں کی درجہ بندی کہیں بہتر ہے۔ وہاں کے نو میں سے صرف دو اضلاع آخری پچاس میں آئے ہیں۔

صوبہ سندھ میں تقریباً سترہ فیصد سرکاری سکول لڑکیوں کے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنصوبہ سندھ میں تقریباً سترہ فیصد سرکاری سکول لڑکیوں کے ہیں

چار سرِ فہرست اضلاع پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر سے ہیں جو مجموعی طور پر بھی اِس فہرست میں اولین ہے کیونکہ اِس کے تمام دس اضلاع بیس سرِفہرست اضلاع میں شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر دو ہزار پندرہ میں پاکستان میں ضلعی تعلیمی درجہ بندی میں معمولی بہتری آئی ہے۔

رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں سرکاری پرائمری سکول تو تقریباً سوا لاکھ ہیں لیکن پرائمری سے مڈل جماعت کے سکولوں کی تعداد نسبتاً بہت کم ہو کر سولہ ہزار کے لگ بھگ رہ جاتی ہے۔

ملک میں سیکنڈری کی سطح تک تعلیم کے سرکاری سکولوں کے صرف پینتیس فیصد سکول، لڑکیوں کے لیے ہیں۔ لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے الگ الگ سکولوں کی شرح کے لحاظ سے بھی صوبہ سندھ بدترین قرار دیا گیا ہے۔

صوبہ سندھ میں تقریباً سترہ فیصد سرکاری سکول لڑکیوں کے ہیں۔گلگت بلتستان اور بلوچستان میں اٹھائیس فیصد، خیبر پختونخوا میں چھتیس، فاٹا میں بیالیس، پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں تینتالیس، اسلام آباد میں سینتالیس جبکہ پنجاب میں پچاس فیصد سکول لڑکیوں کے ہیں۔