خیبر پختونخوا اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف قرار داد منظور

قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے قومی اداروں اور حساس معاملات کے بارے میں اشتعال انگیز بیان کا نوٹس لیا جائے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنقرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے قومی اداروں اور حساس معاملات کے بارے میں اشتعال انگیز بیان کا نوٹس لیا جائے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختنخوا کی اسمبلی نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے فوج کے خلاف اشتعال انگیز بیانات پر مذمتی قراردار بھی متفقہ طور پر منظور کی ہے۔

صوبہ خیبر پختنخوا کی اسمبلی میں یہ مذمتی قرار دار پیر کو جماعتِ اسلامی کے عنایت اللہ اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ فرمان کی جانب سے پیش کی گئی۔

اس قرار داد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔

قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے قومی اداروں اور حساس معاملات کے بارے میں اشتعال انگیز بیان کا نوٹس لیا جائے۔

خیال رہے کہ ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین نے جمعرات کو لندن سے اپنے ایک خطاب میں فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ الطاف حسین کے اس بیان پر فوج کی قیادت نے قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستانی فوج کے اس علان کے بعد الطاف حسین نےکہا تھا کہ اگر ان کے الفاظ سے قومی سلامتی کے اداراوں سے وابستہ افراد کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ معافی کے طلبگار ہیں۔

الطاف حسین نے بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ سے مدد طلب کرنے کے بیان پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی تقریر کوسیاق وسباق سے ہٹ کر پڑھا گیا ہے۔

پیر کو ہی سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف قرارداد لانے کی کوشش ناکام ہو گئی، جس کے بعد ایم کیو ایم کے علاوہ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے ایوان سے علامتی بائیکاٹ کیا۔

اس سے پہلے بلوچستان اسمبلی نے بھی الطاف حسین کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی تھی۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے فوج کے خلاف بیان بازی پر معذرت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی سلامتی سمیت حساس معاملات پر کچھ کہنے سے پہلے سوچنا چاہیے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے اداروں کی ساکھ کا خیال رکھنا حکومتی ذمہ داری ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ قومی سلامتی کے اداروں کی ساکھ کا خیال رکھنا حکومتی ذمہ داری ہے اور اس طرح کے غیر محتاط بیانات سے قومی اداروں کا وقار مجروع ہوتا ہے۔