’قومی سلامتی کے معاملات پر کچھ کہنے سے پہلے سوچنا چاہیے‘

وزیراعظم نے کہا کہ میڈیا کو بھی آئین اور قانون کے مطابق ضابطہ اخلاق کا خیال رکھنا چاہیے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوزیراعظم نے کہا کہ میڈیا کو بھی آئین اور قانون کے مطابق ضابطہ اخلاق کا خیال رکھنا چاہیے

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے فوج کے خلاف بیان بازی پر معذرت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی سمیت حساس معاملات پر کچھ کہنے سے پہلے سوچنا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں کی ساکھ کا خیال رکھنا حکومتی ذمہ داری ہے۔

ادھر بلوچستان کی اسمبلی نے الطاف حسین کی جانب سے فوج کے خلاف اشتعال انگیز بیانات پر مذمتی قراردار بھی متفقہ طور پر منظور کی ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین نے جمعرات کو لندن سے اپنے ایک خطاب میں فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ الطاف حسین کے اس بیان پر فوج کی قیادت نے قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جس کے بعد الطاف حسین نےکہا تھا کہ اگر اُن کے الفاظ سے قومی سلامتی کے اداراوں سے وابستہ افراد کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ معافی کے طلبگار ہیں۔

الطاف حسین نے بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ سے مدد طلب کرنے کے بیان پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی تقریر کوسیاق وسباق سے ہٹ کر پڑھا گیا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں کی ساکھ کا خیال رکھنا حکومتی ذمہ داری ہے اور اس طرح کے غیر محتاط بیانات سے قومی اداروں کا وقار مجروع ہوتا ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کی قرارداد صوبے کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے پیش کی
،تصویر کا کیپشنبلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کی قرارداد صوبے کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے پیش کی

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے بیانات سے عوام کے جذبات اور احساسات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میڈیا کو بھی آئین اور قانون کے مطابق ضابطہ اخلاق کا خیال رکھنا چاہیے اور قومی مفاد کے منافی غیر ذمہ دارانہ بیانات کی تشہیر نہ کی جائے۔

یاد رہے کے ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین نے جمعرات کو لندن سے کیے جانے والے خطاب میں فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تھا کہ وہ اپنے اندر موجود مجرموں کو کیوں نہیں پکڑتی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کے بہت سے سابقہ افسر مجرمانہ کاررائیوں میں ملوث پائے گئے۔ الطاف حسین نے کہا تھا کہ حکومت، آئی ایس آئی، فوج اور بیوروکریٹس پرتعیش زندگی مہاجروں کی قربانیوں کی وجہ سے ہی گزار رہے ہیں۔

دوسری جانب کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق صوبہ بلوچستان کی اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قراردار منظور کی ہے جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان فوج کے خلاف مبینہ طور نفرت انگیز الفاظ استعمال کرنے پر متحدہ قومی موومنٹ پر پابندی عائد کی جائے۔

سینچر کو ہونے والے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف کارروائی کی قرارداد صوبے کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے پیش کی۔

وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی سے الطاف حسین کو یہ پیغام جانا چائیے کہ ’را سے پیسے لے کر پاکستان کو توڑنے کی ان کی بات نہیں سنی جائے گی۔‘

صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے والی قراردار کے متن کے مطابق ’گزشتہ روز ایک لسانی تنظیم کے نام نہاد سربراہ نے اپنی تقریر میں ملکی اداروں اور خاص طور پر افواج پاکستان کے خلاف ہر زہ سرائی کرتے ہوئے بہت قابل نفرت الفاظ استعمال کئے ۔یہ الفاظ ملک سے بغاوت کے زمرے میں آتے ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔‘

قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ’ ایسی فاشسٹ پارٹیوں پر پابندی عائد کی جائے۔‘