سبین محمود کےقتل کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہرے

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, عنبر شمسی، حسن کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے دوسرے شہروں میں گذشتہ ہفتے کراچی میں ہلاک ہونے والی دانشور اور سماجی کارکن سبین محمود کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں جبکہ سبین کے قتل کی تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
منگل کو اسلام آباد میں پریس کلب کے باہر ہونے والے مظاہرے میں سماجی کارکن، صحافی، سیاستدانوں اور تمام شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
شریک افراد کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے لیے آواز اُٹھانے والوں کو اور اُس پر بات کرنے والوں کو ’غدار‘ کہا جا رہا ہے اور میڈیا پر اُن کے خلاف پرپیگنڈا چلایا جا رہا ہے۔
مظاہرے میں شریک افراد نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور انھوں نے اپنے منہ علامتی طور پر بند کر رکھا تھا۔ مظاہرین نے سبین محمود کی تصاویر کے پلے کارڈز سے اپنے چہرے چھپائے ہوئے تھے۔
دوسری جانب سبین محمود کے قتل کی تحقیقات میں تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ سبین محمود نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کے ورثا کے ساتھ مذاکرے کا اہتمام کیا تھا جس کے چند گھنٹوں بعد نامعلوم افراد نے انہیں گولیاں مارکے قتل کردیا۔
پریس کلب کے باہر ہونے والے مظاہرے میں شریک سماجی کارکن حنا جیلانی نے کہا کہ اب وہ وقت نہیں ہے کہ طاقت یا بندوق کے خوف سے معاشرے میں ظلم کے خلاف اُٹھنے والی آوازوں کو خاموش کروایا جا سکے۔
صحافی حامد میر نے کہا کہ اب معاشرے میں ریاستی ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی جا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سبین محمود مکالمے کی بات کرتی تھیں۔
دوسری جانب سبین محمود کے قتل میں تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ کراچی پولیس کے مطابق سبین محمود کے قتل کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج تک رسائی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس سے پہلے ڈی آئی جی ساؤتھ کراچی جمیل احمد نے سنیچر کو ہونے والے کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کو تاخیر کی وجہ بتایا تھا۔مقدمے کے تفتیشی افسر رانا لطیف کے مطابق ابھی تک کسی بھی قسم کی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
دوسری جانب سابق آئی جی افضل شگری کا کہنا ہے کہ پولیس کو اس معاملے میں اس لیے اور زیادہ متحرک ہونا چاہیے کیونکہ اس کا الزام پاکستان کے خفیہ ادارے پر عائد کیا جا رہا ہے۔
افضل شگری نے مزید کہا کہ ایسے مقدمات میں پولیس کو کئی سمت میں تحقیقات کرنا ہوتی ہیں کیونکہ کراچی میں فرقہ ورانہ، لسانی اور سیاسی مسائل کے علاوہ کالعدم شدت پسند تنظیمیں بھی کام کر رہی ہیں۔
کراچی پولیس کو اس مقدمے میں اب تک تو کوئی سراغ نہیں ملا ہے ۔سبین محمود کو کالعدم تنظمیوں کی جانب سے قتل کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔







