پاکستان کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت سعودی عرب جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں ملکی فوجی اور سول قیادت پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کا وفد ایک روزہ دورے پر جمعرات کے روز سعودی عرب روانہ ہو گا۔
وزیراعظم کے ترجمان نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہا کہ اجلاس میں سول اور فوجی قیادت نے یمن کی صورتحال پر غور کیا۔
<link type="page"><caption> شریف خاندان کی شاہی خاندان سے ملاقاتیں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/04/150415_shehbaz_sharif_saudi_tour_zs" platform="highweb"/></link>
ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے اس اجلاس کو بتایا ہے کہ وہ اور فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف سعودی عوام اور حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی اور یمن کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کے لیے سعودی عرب جائیں گے۔
اس وفد میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیراعظم کے خارجہ امور کے لیے مشیر طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری شامل ہوں گے۔
وزیراعظم کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم نے سعودی عرب کی جانب سے یمن میں فضائی حملے روکنے اور سیاسی مذاکرات شروع کرنے کے اعلان کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
یمن کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس میں وزیر دفاع کے علاوہ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف، مشیر خارجہ طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری موجود تھے۔
سعودی عرب نے پاکستان سے یمن جنگ میں برّی، بحری اور فضائی مدد مانگ رکھی ہے جبکہ سعودی عرب کی یمن کی جنگ میں مدد کے بارے میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پارلیمان کے فیصلے سے قبل پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے دفد نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا اور پارلیمان کے فیصلے کے بعد وزیراعطم نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی قیادت میں ایک وفد نے سعودی شاہی خاندان سے ملاقاتیں کی تھیں۔
اسی دوران سعودی عرب کے وزیر برائے مذہبی امور شیخ صالح بن عبدالعزیز نے پاکستان کا دورہ کیا اور اس دوران ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستانی پارلیمنٹ کی قرارداد پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے تاہم سعودی عرب کو پاکستان سے اچھی توقعات وابستہ ہیں۔
سعودی وزیر کے دورے سے پہلے سعودی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستانی پارلیمان کے فیصلے سے یمن میں جاری مہم پر اثر نہیں پڑے گا۔
یمن کے معاملے میں خلیج تعاون کونسل کے ایک اہم رکن متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے پاکستان کی فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کوایک اہم مسئلے پر متضاد اور مبہم رائے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
اس بیان کو پاکستانی وزیر داخلہ نے پاکستانی قوم کی عزتِ نفس کی ہتک کے مترادف قرار دیا تھا۔







