ذکی الرحمٰن لکھوی کی اِغوا کے مقدمے میں بریت

اس مقدمے میں تمام مراحل پورے نہیں کیے گئے اور ملزم کی بریت کی درخواست کو کسی طور پر بھی قبول نہیں کیا جانا چاہیے: سرکاری وکیل

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناس مقدمے میں تمام مراحل پورے نہیں کیے گئے اور ملزم کی بریت کی درخواست کو کسی طور پر بھی قبول نہیں کیا جانا چاہیے: سرکاری وکیل
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے والے مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کو ایک شخص کے اِغوا کے مقدمے میں بری کر دیا ہے۔

منگل کو دورانِ سماعت عدالت کا کہنا تھا کہ ذکی الرحمٰن لکھوی کے خلاف اس مقدمے میں ملوث ہونے کے کوئی براہ راست ثبوت نہیں ملے۔

واضح رہے کہ اس مقدمے میں مقامی عدالت ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت منظور کر چکی ہے جبکہ ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں بھی ملزم ضمانت پر ہے۔

ذکی الرحمن لکھوی کے وکیل رضوان عباسی نےاسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں اس مقدمے سے بریت کی درخواست دائر کی تھی۔

اس مقدمے میں سرکاری وکیل عامر ندیم تابش نے بی بی سی کو بتایا کہ اُنھوں نے اس مقدمے میں ذکی الرحمٰن لکھوی کی بریت کی درخواست کی مخالفت کی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ اس وقت کسی طور پر بھی ملزم کی بریت کی درخواست کو منظور نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ ابھی تک اُن پر تو اس مقدمے میں فردِ جرم بھی عائد نہیں کی گئی۔

اُنھوں نے کہا کہ مقامی عدالت نے فردِ جرم عائد کرنے کے لیے متعدد بار جیل حکام کو ذکی الرحمٰن لکھوی کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے حکم دیا تھا تاہم جیل حکام یہ یہ کہتے تھے کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اُنھیں عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے اپنے دلائل میں یہ بھی کہا کہ ایسی صورت حال میں مدعی مقدمہ کو نوٹس دیا جاتا ہے اور اگر پھر بھی وہ عدالت میں پیش نہ ہوں تو اُن کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں تمام مراحل پورے نہیں کیے گئے اور ملزم کی بریت کی درخواست کو کسی طور پر بھی قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس موقعے پر عدالت کا کہنا تھا کہ یہ چھ سال پرانا مقدمہ ہے اور ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ جس شخص کو اِغوا کیا گیا تھا اس کا وجود بھی ہے یا نہیں کیونکہ اس مقدمے کی تفتیش میں مغوی انور خان کا نہ تو کوئی شناختی کارڈ ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ’ب‘ فارم موجود ہے۔

سیشن جج تنویر میر نے کہا کہ عدالت میں جمع کروائے گئے ریکارڈ میں کسی شخص کا بیان بھی موجود نہیں ہے جس میں اُس نے کہا ہو کہ اس نے مغوی انور خان کو دیکھا ہے۔

عدالت کے مطابق ابھی تک ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ ذکی الرحمٰن لکھوی اِغوا کے مقدمے میں ملوث ہیں۔ اس سے پہلے ملزم کے وکیل نے بریت کی درخواست کے حق میں دلائل دیے تھے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے ذکی الرحمٰن لکھوی کے خلاف اس وقت مقدمہ درج کیا تھا جب انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں ملزم کو ضٰمانت پر رہا کر دیا تھا۔

وفاقی حکومت نے ملزم کو خدشہ نقضِ امن کے تحت حراست میں رکھا تھا تاہم چند روز پہلے لاہور ہائی کورٹ نے اس حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اُنھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔