’ہم بجھانے کی کوشش میں ہیں اور آپ آگ لگا رہے ہو‘

کشیدہ صورتحال کی وجہ سے حلقہ این اے 246 کے ہر پولنگ اسٹیشن کو حساس قرار دیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنکشیدہ صورتحال کی وجہ سے حلقہ این اے 246 کے ہر پولنگ اسٹیشن کو حساس قرار دیا گیا ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے حلقہ 246 میں ضمنی انتخابات کا وقت قریب آتے ہی متحدہ قومی موومنٹ، پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے امیدواروں کی جانب سے چلائی جانے والی انتخابی مہم میں تیزی آئی ہے۔

کراچی کے علاقے کریم آباد بائی پاس کے قریب تحریک انصاف کا انتخابی کیمپ موجود ہے، جب میں اس کیمپ پر پہنچا تو شام چار بجے نصف درجن کے قریب لوگ موجود تھے۔

وہیں بس سٹینڈ پر ایک طالب علم بس کے انتظار میں تھا کہ تحریک انصاف کے حمایتی نے اسے ایک ہینڈ بل تھمانا چاہا لیکن طالب علم نے انکار کر دیا۔

اسی دوران ایک موٹر سائیکل آ کر رکی جس پر سوار شخص نے تحریک انصاف کے حمایتی سے کہا کہ ’بچے کے ساتھ کیوں زبردستی کی جارہی ہے؟‘

بات بڑھتا دیکھ کر گٹکا چباتا ایک نوجوان سامنے آیا اور موٹر سائیکل سوار شخص سے مخاطب ہو کر بولا ’چچا، ہم آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور آپ آگ لگا رہے ہو‘۔

اس پر موٹر سائیکل سوار شخص کہنے لگا ’ کیا کروگے مارو گے؟ ہاں ہم ایم کیو ایم کے حامی ہیں۔‘

یہ سنتے ہی نوجوان اس شخص مخاطب کر کے کہنے لگا ’چچا میں بھی مہاجر ہوں لیکن الطاف کا نہیں عمران کا سپورٹر ہوں۔‘

تحریک انصاف کے نو عمر لڑکے الیکشن کیمپ کے پاس رکنے والی ہر گاڑی پر تحریک انصاف کے اسٹیکر چپساں کردیتے ہیں
،تصویر کا کیپشنتحریک انصاف کے نو عمر لڑکے الیکشن کیمپ کے پاس رکنے والی ہر گاڑی پر تحریک انصاف کے اسٹیکر چپساں کردیتے ہیں

انتخابی مہم کے دوران تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے کارکنوں اور ہمدردوں میں ہر روز ایسی چھوٹی موٹی جھڑپیں عام ہیں۔

شام چھ بجے کے بعد شہر کے دیگر علاقوں سے بھی تحریک انصاف کے کارکن یہاں جمع ہوتے ہیں اور پولیس کی زیر نگرانی عزیز آباد اور لیاقت آباد کا گشت کرتے ہیں جہاں سخت جملوں کے تبادلوں کے علاوہ کبھی کبھار ہاتھا پائی بھی ہو جاتی ہے۔

اسی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے یہاں ہر پولنگ سٹیشن کو حساس قرار دیا گیا ہے جبکہ انتخاب کے روز سات ہزار پولیس اہلکار افسران سمیت یہاں تعینات ہوں گے جبکہ 250 کے قریب سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے جائیں گے۔

ایم کیو ایم نے اپنے امیدوار کنور نوید جمیل کا انتخابی دفتر جماعت کے مرکز نائن زیرو کے قریب واقع جناح گراؤنڈ میں ہے۔ یہ وہی گراؤنڈ ہے جہاں تحریک انصاف نے جلسہ کرنے کا اعلان بھی کیا تھا لیکن بعد میں جگہ تبدیل کردی گئی۔

حلقہ این اے 246 میں ہمیشہ متحدہ قومی موومنٹ کامیاب ہوتی آئی ہے
،تصویر کا کیپشنحلقہ این اے 246 میں ہمیشہ متحدہ قومی موومنٹ کامیاب ہوتی آئی ہے

حلقے کے دیگر علاقوں کی طرف جناح گروانڈ میں بھی امیدوار کی بجائے الطاف حسین کی تصاویر سجی ہوئی ہیں۔ یہاں انتخابی مہم اور تفریحی پروگرام ساتھ ساتھ جاری ہیں۔ چار اپریل کو بسنت منائی گئی اور بعد میں محفل قوالی بھی منعقد کی جا چکی ہے۔

کریم آباد میں ہی تحریک انصاف کے کیمپ کے سامنے ہی پاسبان کے امیدوار عثمان معظم صدیقی کا کیمپ واقع ہے۔ پاسبان کسی زمانے میں جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم رہی تھی لیکن بعد میں اس سے الگ ہوگئی۔

عثمان معظم صدیقی کا وعدہ ہے کہ اگر وہ کامیاب ہوگئے تو پاکستان نژاد امریکی سائنسدان عافیہ صدیقی کو واپس لے کر آئیں گے۔

ان دونوں کیمپوں سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر عائشہ منزل میں جماعت اسلامی کا کیمپ ہے۔ ہم جب وہاں پہنچے تو صرف تین کارکن موجود تھے جن میں سے ایک جنریٹر چلانے میں مصروف نظر آیا جبکہ تحریک انصاف کے برعکس یہاں دور دور تک میڈیا کا نام و نشان نہیں تھا۔

جماعت اسلامی کے کیمپ میں صرف تین کارکن موجود تھے
،تصویر کا کیپشنجماعت اسلامی کے کیمپ میں صرف تین کارکن موجود تھے

ایک کارکن نے بتایا کہ شام کو کیمرہ مین آ کر باقاعدگی سے رکارڈنگ کرتے ہیں لیکن چینلز پر کچھ نشر نہیں ہوتا۔

حلقہ این اے 246 میں متحدہ قومی موومنٹ کامیاب ہوتی آئی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر جماعت اسلامی کے امیدوار آتے رہے ہیں لیکن گذشتہ عام انتخابات میں جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کی وجہ سے دوسرا نمبر تحریک انصاف کے پاس چلا گیا۔

تحریک انصاف نے اپنے امیدوار عمران اسماعیل کے حق میں جماعت اسلامی کے امیدوار راشد نسیم کو دستبردار کروانے کی کوشش بھی کی لیکن مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے۔

اور اب میڈیا کوریج سے بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے اس حلقے میں صرف ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے درمیان ہی مقابلہ ہے۔