پاکستانی تاجروں کی ہلاکت پر افغان حکام سے احتجاج

پانچ پاکستانی تاجروں کی لاشیں بدھ کو پانچ افراد کی لاشیں افغانستان کے علاقے غنی خیل سے ملی تھیں

،تصویر کا ذریعہb

،تصویر کا کیپشنپانچ پاکستانی تاجروں کی لاشیں بدھ کو پانچ افراد کی لاشیں افغانستان کے علاقے غنی خیل سے ملی تھیں

پاکستانی وزارتِ خارجہ نے افغانستان میں پانچ پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر افغانستان کے سفارتی حکام سے احتجاج کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق پاکستان میں تعینات افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو دفترِ خارجہ طلب کیا گیا اور انھیں پاکستانیوں کے بہیمانہ قتل پر تشویش سے آگاہ کیا گیا۔

حکومتِ پاکستان نے افغان حکومت سے درخواست بھی کی ہے کہ وہ قتل کے اس واقعے کی تحقیقات کرے اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دلوائے۔

حکومت نے ہلاک شدگان کے ورثا سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار بھی کیا ہے۔

ہلاک ہونے والے پانچ پاکستانی چارسدہ سے تعلق رکھنے والے تاجر تھے جن کی لاشیں بدھ کو افغانستان کے علاقے غنی خیل سے ملی تھیں۔

یہ پانچوں افراد ان آٹھ تاجروں میں شامل تھے جنھیں دو ماہ پہلے مسلح افراد نے افغانستان میں مہمند مارکو کے علاقے سے اغوا کر لیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ان افراد کو اس علاقے میں آنے سے منع کیا گیا تھا جہاں سے وہ اغوا ہوئے۔

یہ تمام افراد سرسوں کے تیل اور دیسی گھی کی تجارت کرتے تھے اور ان کے بقیہ تین ساتھی تاحال لاپتہ ہیں۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ان کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ ان لوگوں کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا تھا تاہم ایسی اطلاعات ضرور موصول ہوئی ہیں کہ بعض لوگوں نے ان تاجروں کے رشتہ داروں سے کہا تھا کہ وہ انھیں کچھ رقم دیں تاکہ ان افراد کی بازیابی کے لیے وہ افغانستان میں کوششیں کر سکیں۔