80 ہزار پاکستانیوں کا روزگار افغانستان میں
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کابل
پشاور سے تعلق رکھنے والے شعیب خان (فرضی نام) پچھلے تین برسوں سے کابل کے ایک ریسٹورنٹ میں بیرے کے ملازمت کر رہے ہیں۔
پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تنخواہ اور وہ بھی اکثر اوقات ڈالروں میں پاکستانیوں کو جنگ سے تباہ حال ملک کھینچ لاتی ہے۔
عام پاکستانیوں کو افغانستان میں قیام کے لیے طویل مدتی ویزے نہیں ملتے اور بار بار پاکستان آ کر ویزوں کی توسیع وقت طلب اور مہنگا کام ہے جس سے بچنے کی خاطر اکثر پاکستانی ویزوں کے ختم ہونے کے باوجود غیرقانونی طورپر افغانستان ٹھہرے رہتے ہیں۔
شعیب نے بتایا کہ چونکہ وہ ہوٹل سے باہر جاتے ہیں نہیں اس لیے ’اب تک تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوا لیکن جن لوگوں کو افغان حکام ویزے ختم ہونے کی وجہ سے تنگ کرتے ہیں وہ اس کا کسی نہ کسی صورت کوئی حل نکال ہی لیتے ہیں۔‘
پاکستانیوں نے گزشتہ دہائی میں افغانستان کی تعمیر نو میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ ان کی اکثریت تعمیراتی شعبے سے منسلک ہے لیکن ایک بڑی تعداد ’وائٹ کالر‘ ملازمتیں بھی کر رہی ہے۔
سرکاری اندازوں کے مطابق افغانستان میں اس وقت لگ بھگ 80 ہزار پاکستانی مختلف شعبوں میں ملازمت کر رہے ہیں۔ یہ پاکستانی محض بڑے شہروں میں نہیں بلکہ قندھار، غزنی اور ہلمند تک پھیلے ہوئے ہیں۔

ان میں سے کتنے قانونی اور کتنے غیرقانونی ہیں، کچھ کہنا مشکل ہے۔
لیکن گزشتہ دنوں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد وہاں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع کم ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کابل میں گزشتہ سات برس سے اقوام متحدہ سے منسلک پاکستانی آصف رشی کا بھی یہی خیال ہے: ’میں کہوں گا کہ مواقع کم ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ بین الاقوامی تنظیموں کا یہاں سے چلے جانا ہے۔ اس سے یہاں پر ماضی کے مقابلے میں منصوبے کم ہوئے ہیں۔‘
پاکستانی سرکاری حکام کے مطابق ایک وقت میں کابل میں سات ہزار تک پاکستانی مختلف ملازمتیں کر رہے تھے لیکن حامد کرزئی کی حکومت نے اس وقت ’نیشنلائزیشن‘ کے نعرے کے تحت ان کی تعداد میں کافی کمی کی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی اردو کے ساتھ گذشتہ دنوں ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے اس کمی کا اعتراف بھی کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہاں ان کی تعداد کو مناسب حد تک لانا ضروری تھا۔۔۔ہمیں اسے جائز تعداد تک لانا ہی تھا۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم پاکستانیوں کو اٹھا کر ملک سے باہر پھینک دیں۔‘
ڈاکٹر اشرف غنی کی قیادت میں نئی افغان حکومت کا اب کہنا ہے کہ افغانستان میں قیام امن سے لاکھوں پاکستانیوں کو معاشی فائدہ ہوسکتا ہے۔
اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ خود افغانستان میں انھیں ملازمت کے نئے مواقع مل سکتے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات کے درمیان حالیہ گرم جوشی اس بارے میں امید بندھاتی ہے۔







