’اتنی ہی مدد کرنی چاہیے جتنی ہم برداشت کر سکیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زردای نے کہا ہے کہ یمن کے معاملے پر سعودی عرب کے ساتھ عسکری تعاون کا فیصلہ تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ہی ہونا چاہیے۔
سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ ہمیں اپنے آپ کو نقصان پہنچا کر کسی دوسرے اسلامی ملک کی مدد نہیں کرنی چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ’اتنی ہی مدد کرنی چاہیے جتنی ہم برداشت کر سکیں۔‘
سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر نوڈیرو میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں آصف زرداری نے کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔
کارکنوں سے خطاب میں انھوں نے کہا ’کوئی بھی ملک کسی دوسرے اسلامی ملک کی سرحدوں کونقصان نہ پہچائے اور نہ ہی کسی ملک کے ساتھ آمرانہ رویہ روا رکھے۔‘
آصف زرداری نے اندیشہ ظاہر کیا کہ حکومتِ وقت یمن میں فوجیں بھجینے کے حوالے سے یکطرفہ فیصلہ نہ کر لے۔
انھوں نے کہا کہ ’التجا ہے کہ اگر لڑنا ہے کوئی پوزیشن لینی ہے تو ہمیں ساتھ رکھیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ سمجھوتہ کر لیں ہم سے نہ پوچھیں اور ہمیں ساتھ نہ لیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ یمن میں شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف سعودی کمان میں جاری عسکری آپریشن پر سعودی عرب نے پاکستان سے مدد مانگی تھی اور سعودی عرب سے تعاون کے لیے فوجیں بھجوانے کے معاملے پر فیصلہ کرنے کے پیر کو پارلیمان کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
آصف زرداری نے کہا کہ اس جنگ کے ذریعے مسلمان کو آپس میں لڑوا کر کمزور کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن سندھ کے ساحلی علاقوں سےگزرے گی اور یمن کی جنگ میں سعودی عرب سے تعاون کرنے یا نہ کرنے کے معاملے پر سندھ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما آصف زرداری نے انتخابات میں دھاندلی کی حوالے سے عدالتی کمیشن کی تشکیل پر عمران خان کو مبارکباد دی اور انھیں پارلیمان میں واپس آنے کی دعوت دی۔
آصف زرداری نے کہا کہ عمران خان پارلیمان میں واپس آ کر اُن کی حکومت کے تعاون سے الیکشن کمیشن کو مالیاتی طور پر غیر جانبدار بنائیں تاکہ شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے۔
کارکنوں سے خطاب میں آصف زرادی نے کہا کہ وہ آئندہ عام انتخابات میں پارٹی کے ورکروں کی مشاورت کے بعد ٹکٹ دیں گے۔
انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا ووٹ بہت قیمتی ہے اور ووٹ لینے والے کو عوام کی خدمت کرنا ہو گی۔







