وزارت داخلہ کےایڈیشنل سیکرٹری بدعنوانی کے الزام میں گرفتار

،تصویر کا ذریعہNAB
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے احتساب بیورو نے ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ ارشد خان کو فوجی آپریشن سے متاثرہ افراد کے لیے مختص امدادی رقم میں خرد برد کے الزام میں گرفتاری کے بعد عدالت سے ریمانڈ حاصل کر لیا ہے ۔
ارشد خان پر الزام ہے کہ ا نھوں نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے سربراہ کے طور پر یہ خرد برد کی تھی۔
متاثرین کے فنڈ میں خرد برد کے الزام میں اب تک سات افراد کو گرفتار کیاجا چکا ہے جن میں ایف ڈی ایم اے کی ڈائریکٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمیت بینک ملازمین بھی شامل ہیں۔
جمعے کو ایڈیشنل سیکرٹری ارشد خان اور دیگر دو ملازمین کو احتساب عدالت کی جج کے سامنے پیش کیا گیا جہاں انھیں دس روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔
قومی احستاب بیورو خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ارشد خان نے اپنے دور میں ڈائریکٹر جنرل فاٹا ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی ایف ڈی ایم اے کے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے متاثرین کے فنڈز میں خرد برد کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ایف ڈی ایم اے کے ملازم سراج الدین اور عرفان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی، باجوڑ اور ملاکنڈ کے متاثرین کے لیے حکومت نے ان کے نقصانات کے ازالے کے لیے فنڈ جاری کیے تھے۔ جن افراد کے مکان مکمل طور پر تباہ ہوئے تھے ان کے لیے چار لاکھ روپے اور جن کی مکان جزوی طور پر خراب ہوئے تھے ان کے لیے ایک لاکھ 60 ہزار روپے کی رقم فی خاندان محتص کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAP
نیب حکام کے مطابق ارشد خان پر یہ الزام عائد ہے کہ انھوں نے اس فنڈ میں خرد برد کیا اور پولیٹکل انتظامیہ کی منظوری کے بغیر اپنے طور پر فرضی ناموں پر فنڈز جاری کرنے کی منطوری دی تھی۔
سراج الدین بھی فاٹا میں مانٹرنگ افسر جبکہ عرفان سوشل موبلائزر کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے فرضی ناموں سے مختلف بینکوں میں اکاؤنٹ کھولے تھے۔ نیب کے مطابق اس سے پہلے ایف ڈی ایم اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور بینک کے تین ملازمین کو بھی گرفتار کیا ہے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ یہاں خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں اکثر متاثرین یہ الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ انھیں امدادی رقوم نہیں مل رہیں اور یہ کہ اکثر فنڈز غیر متعلقہ افراد کو دیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صرف آٹے میں نمک کے برابر ہے، ان فنڈز میں سامان کی فراہمی اور فنڈز کی ترسیل میں مذید تفتیش کی ضرورت ہے۔
قومی احتساب بیورو نے چند روز پہلے ٹی بی ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر اقبال صافی اور دیگر تین افراد کو غیر قانونی طور پر پلاٹ فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
نیب کی جانب سے کچھ عرصے کے دوران بڑی گرفتاریاں کی گئی ہیں جن میں سیکریٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ طارق اعوان ، پشاور ڈیویلپمنٹ اتھاری کے سابق ڈائریکٹر جنرل اور سابق انسپکٹر جنرل پولیس کے علاوہ دیگر اہم افسران کو گرفتار کیا تھا۔







