بنوں: راشن کی تقسیم کے دوران ہنگامہ آرائی، دس زخمی

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان سے آنے والے متاثرین میں راشن کی تقسیم کے دوران ہنگامہ آرائی اور بھگدڑ مچ جانے سے چھ پولیس اہلکار اور چار متاثرین زخمی ہو گئے ہیں۔
کمشنر آفس بنوں کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی صبح بنوں سپورٹس کمپلیکس میں واقع راشن پوائنٹ سے شمالی وزیرستان کے متاثرین میں خیمے اور دیگر اشیا تقسیم کی جا رہی تھیں کہ اس دوران بعض متاثرین نے لوٹ مار کرنے کی کوشش کی۔
انھوں نے کہا کہ پولیس نے لوٹ مار روکنے اور متاثرین کو منتشر کرنے کےلیے لاٹھی چارج کیا اور ہوائی فائرنگ کی جس سے وہاں بھگدڑ مچ گئی اور لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔
اہلکار کے مطابق بھگدڑ کے دوران چار افراد زخمی ہوئے، جبکہ متاثرین کے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ سے پانچ اہلکار بھی زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو قریبی ہپستال منتقل کر دیا گیا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سپورٹس کمپلیکس تقریباً ایک گھنٹے میدانِ کارزار بنا رہا اور اس دوران متاثرین پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کرتے رہے۔
انھوں نے کہا کہ پولیس اہلکار بمشکل وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

بنوں سپورٹس کمپلیکس میں موجود شمالی وزیرستان کے ایک مقامی صحافی نور بہرام نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں پہلے راشن پوائنٹس کی تعداد زیادہ تھی لیکن اب انتظامیہ کی جانب سے کچھ عرصہ سے ان کی تعداد کم کر دی گئی ہے جس سے اکثر اوقات بد نظمی ہو جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ متاثرین یہ شکایت بھی کرتے رہے ہیں کہ پولیس اہلکار ان سے راشن پوائنٹس پر پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں اور جو رشوت دیتا ہے اسے پہلے امداد مل جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں پانچ ماہ پہلے شروع ہونے والےآپریشن ضربِ عضب کی وجہ سے لاکھوں لوگوں نے بےگھر ہو کر بنوں اور صوبے کے دیگر اضلاع میں پناہ لے رکھی ہے۔
ان متاثرین کے لیے حکومت کی جانب سے بکاخیل کے علاقے میں ایک پناہ گزین کیمپ قائم کیا گیا ہے تاہم وہاں چند ہی خاندان مقیم ہیں۔
زیادہ تر متاثرین اپنے طورپر کرائے کے مکانات یا خیراتی ادارے الخدمت کے زیر انتظام قائم کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔







