’جب بمباری ہوتی ہے، قیدی ہمیں مارتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
یمن میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں تاہم وہاں قید 11 پاکستانی قیدیوں کو نکالنے کے لیے بظاہر کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں جو یمن کی دو مختلف جیلوں میں قید ہیں۔
یمن کے شہر صنعا کی جیل میں قید ایک قیدی محمد صدیق نے بی بی سی اردو سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی جنگی مہم کی حمایت کے اعلان کے بعد انھیں جیل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
کراچی کے علاقے لیاری کے رہائشی محمد صدیق نے کہا کہ جب بھی فوجی طیاروں کی بمباری ہوتی ہے تو یمنی باشندے ان کی بیرکوں میں گھس کر پاکستانی قیدیوں پر تشدد کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ صنعا کی جیل میں چار ہزار کے قریب قیدی ہیں جن میں سے تین ہزار کے قریب یمنی باشندے ہیں۔
صدیق کا کہنا تھا کہ یمنی باشندے یہ کہہ کر پاکستانی قیدیوں پر تشدد کرتے ہیں کہ پاکستان اس جنگ میں سعودی عرب کی کیوں حمایت کر رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ چونکہ صنعا میں باغیوں کا قبضہ ہے اس لیے وہ اس تشدد کے خلاف کسی سے شکایت بھی نہیں کر سکتے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کی شنوائی نہیں ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
محمد صدیق منشیات کے مقدمے میں گذشتہ نو سال سے جیل میں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جب سے سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے فضائی حملے شروع کیے ہیں اس وقت سے پاکستانی قیدیوں کو دو دن کا باسی کھانا دیا جارہا ہے اور جیل کے قیدی یہ بھی کہتے ہیں کہ تم اس کھانے کے بھی حقدار نہیں ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ اتوار کے روز جیل کے باہر شدید بمباری ہوئی اور ایسے حالات میں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ زندہ بھی واپس آسکیں گے یا نہیں۔
محمد صدیق نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی سفارت خانے نے اہلکاروں نے انھیں وطن واپس بھیجنے کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے اور نہ ہی اُن سے رابطہ کیا گیا ہے۔
تاہم پاکستانی وزارت خارجہ کے ایکاہلکار کے مطابق یمن میں پاکستانی سفارت خانے کے اہلکاروں نے وفاقی حکومت کو اس بارے میں اس وقت آگاہ کردیا تھا جب یمن میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزارت داخلہ کے ایسے افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے جنھوں نے دوسرے ملکوں کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کو رہا کروانے کے بعد وطن واپس لائے اور وطن واپسی پر ان افراد کو رہا کردیا گیا۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق ایسے حالات میں وفاقی حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی کہ وہ کس طرح جنگ سے متاثرہ ملک یمن سے پاکستانی قیدیوں کو وطن واپس لایا جائے۔
خیال رہے کہ اتوار کی رات پی آئی اے کا طیارہ یمن کے شہر حدیدہ سے 503 پاکستانیوں کو لے کر وطن واپس پہنچا تھا جبکہ یمن میں موجود دیگر پاکستانیوں کو ایک جگہ اکھٹا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔







