آواران میں ایک سکیورٹی اہلکار اور چھ عسکریت پسند ہلاک

،تصویر کا ذریعہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع آواران میں حکام کے مطابق فرنٹیئرکور کے ساتھ ایک جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہلکار اور چھ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔
کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے مطابق ضلع آواران کے علاقے مشکے میں سرچ آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔
ایف سی کے بیان میں کہا گیا کہ دونوں جانب سے شدید فائرنگ کے تبادلے میں چھ عسکریت پسند ہلاک اورمتعدد زخمی ہو گئے جبکہ ایک سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہو گیا۔ بیان کے مطابق عسکریت پسندوں سے اسلحہ اور مواصلاتی آلات بھی برآمد ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایف سی نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسند آواران اور اطراف میں سکیورٹی فورسز پر حملوں، شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ اور اغواء برائے تاوان میں ملوث تھے۔
دوسری جانب کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایف سی سے جھڑپ میں ہلاک ہونے والے عسکریت پسند نہیں بلکہ عام شہری تھے تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
صوبہ بلوچستان میں گذشتہ کئی سالوں سے امن و امان کی صورتحال خراب ہے۔ یہاں سکیورٹی فورسز، اقلیتوں اور شیعہ ہزارہ برادری پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔
اس کے علاوہ صوبے میں لاپتہ افراد کا مسئلہ بھی موجود ہے اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات بھی پیش آتے رہتے ہیں۔



