کوئٹہ: سرچ آپریشن میں شدت پسند کمانڈر گرفتار

حکام نے چند دن پہلے بھی ایک شدت پسند تنظیم کے اہم رہنما کو سرچ آپریشن میں ہلاک کر دیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحکام نے چند دن پہلے بھی ایک شدت پسند تنظیم کے اہم رہنما کو سرچ آپریشن میں ہلاک کر دیا تھا
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب سکیورٹی فورسز نے ایک سرچ آپریشن میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر کو گرفتار کرنے کادعویٰ کیا ہے۔

سکیورٹی فورسز کے مطابق سنیچر کو سرچ آپریشن کوئٹہ شہر کے قریب لک پاس کے علاقے میں کیا گیا۔

حکام کے مطابق ایک شخص کوگرفتار کرنے کے علاوہ دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق گرفتار ہونے کا شخص کالعدم شد ت پسند تنظیم جنداللہ کا کمانڈر ہے جو کہ مبینہ طور پر ایران میں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث ہے۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ایک سینیئر افسر نے آپریشن میں اس علاقے سے ایک شخص کی گرفتاری کی تصدیق کی تاہم انہوں نے بتایا کہ تاحال وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ گرفتار شخص کا تعلق کس کالعدم تنظیم سے ہے۔

کوئٹہ میں ہی چند دن پہلے سرچ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر عثمان عرف سیف اللہ سمیت دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حکام کے مطابق شدت پسند عثمان پر کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں فرقہ وارانہ قتل اور اقدام قتل کے درجنوں مقدمات درج تھے۔

بلوچستان میں شدت پسندی کے واقعات کئی سالوں سے جاری ہیں اور ان میں شیعہ ہزارہ برادری کو متعدد بار نشانہ بنایا گیا ہے۔

گذشتہ ماہ جنوری میں سندھ کے شہر شکار پور کی امام بارگاہ میں خودکش بم حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم جنداللہ نے قبول کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم حکام کی جانب سے بم حملے میں شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دونوں تنظیمیں پاکستان میں شیعہ برادری کو متعدد بار نشانہ بنا چکی ہیں۔