’حکومت حفاظت نہیں کر سکتی تو بتادے ہم خود کر لیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں امامیہ مسجد میں خود کش دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بائیس ہو گئی ہے ۔
سینیچر کو پشاور کوہاٹ اور دیگر علاقوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کر دی گئی ہے جبکہ سول سوسائٹی کے ارکان نے اس حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔
حیات آباد میڈیکل کملیکس میں دو زخمی کاشف اور علی سینیچر کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے جبکہ اٹھائیس زخمی اب بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
سینیچر کو کوہاٹ ہنگو روڈ پر لواحقین نے سڑک پر لاشیں رکھ کر دھرنا دیا اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت انھیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے ۔
گزشتہ روز ہلاک ہونے والے سات افراد کا تعلق کوہاٹ، تین کا تعلق ہنگو اور تین کا تعلق پارا چنار اور اورکزئی ایجنسی سے بتایا گیا ہے ۔
مسجد میں صفائی اب تک نہیں کی گئی جس کے ہال میں شیشے بکھرے پڑے ہیں، صفیں خون آلود اور دروازے ٹوٹے ہوئے ہیں اور جگہ جگہ خون کے دھبے نظر آر ہے ہیں اور دیواروں پر دھماکوں کے نشان واضح ہیں۔
پشاور میں سول سوسائٹی کے اراکین نے پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا اور امامیہ مسجد حیات آباد میں شمعیں جلا کر حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کو یاد کیا گیا۔ اس موقع پر سول سوسائٹی کے اراکین نے حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
آج مسجد میں موجود ایک عینی شاہد اقتدار علی اخونزادہ نے بتایا کہ انھوں نے حملے کے وقت کچھ ویڈیو بنائی ہے اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ نمازی مسجد کے ہال کے ایک کونے میں جمع ہیں اور باہر سے شدید فائرنگ ہو رہی ہے ۔ اس دوران ایک خود کش حملہ آور ہال کے اندر داخل ہوتا ہے اور زور دار دھماکہ ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقتدار علی نے بتایا کہ اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک نمازی دوسرے خود کش حملہ آور کو پکڑ رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر وہ نمازی عباس علی اس حملہ آور کو نہ پکڑتا تو زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا اس لیے ان کا کہنا تھا کہ حکومت عباس علی کو بہادری کا ایوارڈ دے۔
شیعہ علما اور رہنماؤں نے آج مسجد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر حقیقی معنوں میں عمل کرائے تو اس طرح کے واقعات پیش نہیں آئیں گے۔ شیعہ علما کونسل خیبر پختونخوا کے سربراہ علامہ رمضان توقیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت انھیں تحفظ فراہم کرے۔

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
انھوں نے کہا کہ عوام کا اتنا سرمایہ ان ایجنسیوں پر صرف ہو رہا ہے تو حکومت بتائے کہ ان ایجنسیوں کی کیا کارکردگی ہے کیونکہ ایسے حالات میں حملہ آور آسانی سے یہاں پہنچے اور حملہ کر دیا۔
امامیہ مسجد حیات آباد کے امام علامہ نذیر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ مسجد میں موجود نمازیوں نے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا لیکن آدھے گھنٹے تک کوئی پولیس نہیں پہنچی حالانکہ تھانہ اور دیگر اہم دفاتر اسی علاقے میں قائم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت انھیں تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو انھیں بتادے وہ اپنی حفاظت خود کریں گے۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے اور بہت جلد وہ اس حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیں گے۔







