پشاور کی امامیہ مسجد میں خودکش دھماکے، 20 ہلاک

ایک حملہ آور نے خود کو مسجد کی گیلری میں دھماکے سے اڑایا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایک حملہ آور نے خود کو مسجد کی گیلری میں دھماکے سے اڑایا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک مسجد میں خودکش دھماکوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکے حیات آباد کے فیز فائیو میں پاسپورٹ آفس کے قریب واقع شیعہ مسلک کی امامیہ مسجد و امام بارگاہ میں اس وقت ہوئے جب لوگ وہاں نمازِ جمعہ کے لیے جمع تھے۔

خیبر پختونخوا کے آئی جی پولیس ناصر درانی نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے بعد صحافیوں کو بتایا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد تین سے چار تھی جو امام بارگاہ کے باہر لگی باڑ کاٹ کر اور دیوار پھاند کر آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک حملہ آور نے خود کو مسجد کے برآمدے میں دھماکے سے اڑایا جبکہ ایک حملہ آور کی باقیات مسجد کے ہال سے ملی ہیں۔

ناصر درانی کا کہنا تھا کہ مسجد کے صحن میں موجود افراد نے دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیسرے حملہ آور کو دھماکہ نہیں کرنے دیا اور وہ فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔

پشاور بم ڈسپوزل یونٹ کے سربراہ شفقت شاہ نے بی بی سی اردو کو ایک پیغام میں بتایا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد چار تھی جن میں سے تین کے جسموں کے باقیات اور ایک کی لاش ملی ہے۔

حملہ آوروں کی تعداد چار تھی جن میں سے تین کے جسموں کے باقیات اور ایک کی لاش ملی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحملہ آوروں کی تعداد چار تھی جن میں سے تین کے جسموں کے باقیات اور ایک کی لاش ملی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بی ڈی یو نےجائے وقوع سے ملنے والے تین دستی بم بھی ناکارہ بنائے ہیں۔

دھماکے کے فوری بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں اور لاشوں اور زخمیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اطلاعات مشتاق غنی نے اس حملے میں 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں رش کی وجہ سے زخمیوں کی صحیح تعداد بتانا ممکن نہیں۔

تاہم حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ڈپٹی میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر احمد زیب کا کہنا ہے کہ 40 سے زیادہ زخمی ہسپتال لائے گئے ہیں۔

زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

پاکستانی طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ڈاکٹر عثمان کی پھانسی کا بدلہ ہے۔

یہ رواں برس شیعہ مسلک کی مساجد کو نمازِ جمعہ کے موقع پر نشانہ بنائے جانے کا دوسرا واقعہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیہ رواں برس شیعہ مسلک کی مساجد کو نمازِ جمعہ کے موقع پر نشانہ بنائے جانے کا دوسرا واقعہ ہے۔

حملے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور پاکستانی فوج کے دستوں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔

خیال رہے کہ یہ رواں برس شیعہ مسلک کی مساجد کو نمازِ جمعہ کے موقع پر نشانہ بنائے جانے کا دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل صوبہ سندھ کے شہر شکار پور میں کربلائے معلّیٰ نامی امام بارگاہ میں دھماکے سے 60 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔