کوئٹہ میں دکانوں پر چھاپے اور گرفتاریاں

اس کارروائی کے دوران کئی دکانداروں کو حراست میں بھی لیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس کارروائی کے دوران کئی دکانداروں کو حراست میں بھی لیا گیا
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس کوئٹہ

سانحہ پشاور کے بعد پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں منافرت پر مبنی لٹیریچر اور دیگر مواد کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

سینیچر کو مہم کے پہلے روز کوئٹہ شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں صبح سے شام تک پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے کتابوں، ویڈیوز اور موبائل فون کی دکانوں پر چھاپے مارے۔

اس سلسلے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیپیٹل سٹی پولیس افسر کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ نے کہا کہ اس مہم کا مقصد منافرت پر مبنی لٹریچر اور دیگر مواد کو ضبط کر نا تھا۔

ان کا کہنا تھاکہ سانحہ پشاور کے بعد ملکی سطح پر دہشتگردی کے خلاف پالیسی کے تسلسل میں کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں نفرت انگیز مواد کے خلاف کارروائیاں شروعر کرردی گئی ہیں۔

اگرچہ یہ مہم پہلے روز شہر اور نواحی علاقوں میں پورا دن جاری رہی۔ لیکن رازق چیمہ نے پہلے روز برآمد ہونے والے مواد کی جو تفصیل بتائی وہ انتہائی کم تھی۔

برآمد ہونے والی اشیاء اور مواد 49 کمپیوٹروں، 5 یو ایس بی اور 5 آڈیو کیسٹ، 2 واکی ٹاکی سیٹ اور 46 مختلف قسم کے کتابچوں پر مشتمل تھا۔

اس کے علاوہ ایک دکان سے 715 الیکٹرک ڈیٹونیٹر بھی برآمد کر کے قبضے میں لیے گئے۔

سی سی پی او نے بتایا کہ اس مہم کے دوران 20 دکانوں کو سیل کر کے 40 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ جو مواد بر آمد کیا گیا ہے وہ تحریک طالبان کے جہادی مواد پر مشتمل ہے اور کچھ قوم پرستی سے متعلق ہیں۔

رزاق چیمہ نے کہا کہ منافرت پھیلانے والے مواد کے خاتمے تک یہ مہم جاری رہے گی ۔

اسی طرح کی کارروائی کوئٹہ شہر کے علاوہ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی کی گئی۔