خاران کے ڈپٹی کمشنر پر حملہ، دو اہلکار ہلاک

یہ رواں ماہ بلوچستان میں کسی سرکاری افسر کے قافلے پر حملے کا دوسرا واقعہ ہے
،تصویر کا کیپشنیہ رواں ماہ بلوچستان میں کسی سرکاری افسر کے قافلے پر حملے کا دوسرا واقعہ ہے
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع خاران میں ڈپٹی کمشنر خاران کے قافلے پر حملے میں لیویز فورس کے دو سپاہی ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

لیویز کی حملہ آوروں سے جھڑپ میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا ہے۔

خاران میں لیویز فورس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر کو خاران کے ضلع واشک سے متصل راچیل کے علاقے میں سات سے آٹھ مسلح افراد کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔

اِن افراد کے خلاف کارروائی کے لیے ڈپٹی کمشنر لیویز فورس کی نفری کے ہمراہ جب وہاں پہنچے تو مسلح افراد نے ان پر حملہ کر دیا۔

ان کا کہنا تھا اس حملے میں لیویز فورس کا ایک سپاہی ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔

زخمیوں کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان میں سے دو کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

لیویز فورس کے اہلکار نے بتایا کہ اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا ہے جبکہ باقی فرار ہوگئے جن کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔

تاحال حملہ آوروں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خاران بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ سے تقریباً 400 کلومیٹر دور جنوب مغرب میں واقع ہے اور یہاں ماضی میں بھی سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

یہ رواں ماہ بلوچستان میں کسی سرکاری افسر کے قافلے پر حملے کا دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل تین مارچ کو ضلع لورالائی میں ضلعی پولیس افسر کے قافلے پر حملے میں میں کم از کم دو پولیس اہلکار مارے گئے تھے جبکہ ڈی پی او کے علاوہ ایک پولیس اہلکار زخمی بھی ہوا تھا۔

تحریک طالبان پاکستان نے ایک پیغام میں ڈی پی او کے قافلے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔