زندہ جلائے جانے والوں کا مقدمہ دہشت گردی کی عدالت میں

 گرجا گھروں پر خود کش حملوں کے بعد مشتعل ہجوم نے دو افراد کو تشدد کر کے ہلاک کرنے کے بعد اُن کی لاشوں کو جلا دیا تھا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن گرجا گھروں پر خود کش حملوں کے بعد مشتعل ہجوم نے دو افراد کو تشدد کر کے ہلاک کرنے کے بعد اُن کی لاشوں کو جلا دیا تھا

پنجاب حکومت نے یوحنا آباد میں ہجوم کے ہاتھوں ہلاک کیے جانے والے دو افراد کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اِس بات کا اعلان وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے جلائے گئے نوجوان حافظ نعیم کے گھر والوں کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعلی نے متاثرہ خاندان کو یقین دلایا کہ مقدمے کی نگرانی پنجاب حکومت خود کرے گی۔

15 مارچ کو لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں دو گرجا گھروں پر خود کش حملوں کے بعد مشتعل ہجوم نے دو افراد کو تشدد کر کے ہلاک کرنے کے بعد اُن کی لاشوں کو جلا دیا تھا۔

ضلع قصور کا رہائشی نعیم بھی جلائے جانے والے دو افراد میں سے ایک تھا۔

میاں شہباز شریف اتوار کے روز حافظ نعیم کے گھر پہنچے اور اِس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا۔

وزیراعلی نے متاثرہ خاندان کو بتایا کہ سانحہ یوحنا آباد کے بعد بلوا کرنے والے اور نوجوانوں کو جلانے والے 30 افراد گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مقدمے کا چالان جلد عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔

میاں شہباز شریف نے حافظ نعیم کے گھر والوں کو یقین دہانی کروائی کہ نعیم کو جلانے والوں کے خلاف مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہی چلے گا اور مجرموں کو جلد کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔