این اے 122: تمام ووٹوں کی تصدیق نادرا سے کروانے کا حکم

عمران خان عام انتخابات کے بعد سے مبینہ دھاندلیوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعمران خان عام انتخابات کے بعد سے مبینہ دھاندلیوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں
    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

لاہور میں الیکشن ٹربیونل میں حلقہ این اے 122 میں 2013 کے عام انتخابات کے دوران ڈالے گئے تمام ووٹوں کی تصدیق نادرا سے کروانے کا حکم دے دیا ہے۔

یہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی درخواست پر دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے اس حلقے میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی بھی کروائی جا چکی ہے۔

حلقہ این اے 122 لاہور سے 2013 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے سپیکرسردار ایاز صادق پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کے مدمقابل تھے اور کامیاب قرار پائے تھے۔

انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے دھاندلی کا شور مچایا تو حلقہ این اے 122 کو ایسے حلقوں میں سرفہرست رکھا گیا جہاں پی ٹی آئی کے مطابق مسلم لیگ ن کی جانب سے دھاندلی کی گئی تھی۔

حلقہ این اے 122 میں عمران خان کو شکست دینے والے مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق ایوان زیریں کے سپیکر ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنحلقہ این اے 122 میں عمران خان کو شکست دینے والے مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق ایوان زیریں کے سپیکر ہیں

جس کے بعد عمران خان نے سردار ایاز صادق کے خلاف انتخابی عذرداری دائر کی اور یہ الزام لگایا کہ اس حلقے میں دھاندلی ہوئی ہے۔

عمران خان نے الیکشن ٹربیونل میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ لوکل کمیشن کے ذریعے ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور جانچ پڑتال کے دوران کئی اہم نکات کو نظرانداز کیا گیا۔

یہ الزام بھی لگایا گیا کہ پڑتال کے دوران تحریک انصاف کے نمائندوں کی نشاندہی کے باوجود کئی بےضابطگیوں کو لوکل کمیشن نے نظرانداز کیا۔

عمران خان نے اپنی درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا تھا کہ لوکل کمیشن کی رپورٹ سے یہ بات واضح نہیں ہوسکی کہ حلقے میں دھاندلی ہوئی یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف انتظامی بےضابطگیاں ہی منظرعام پر آسکیں۔ یہ پتہ نہیں چل سکا کہ جو ووٹ ڈالےگئے آیا ان میں سے کچھ جعلی ہیں یا نہیں۔ لہذٰا اس تمام ریکارڈ کی تصدیق نادرا سے کروائی جائے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ جعلی ووٹ ڈالے گئے ہیں یا نہیں۔

عمران خان کے وکیل انیس ہاشمی نے درخواست میں یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ لوکل کمیشن کے جج غلام حسین اعوان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس طرح کا بیان دیا ہے کہ وہ معاملے میں فریق بن گئے ہیں۔

لوکل کمیشن کے جج غلام حسین اعوان نے الیکشن ٹربیونل میں اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ این اے 122 کے انتخابی ریکارڈ کی جانچ پڑتال میں کوئی جعلی ووٹ نہیں بلکہ انتخابی بےضابطگیاں پائی گئی ہیں۔

ایاز صادق کے وکلا نے عمران خان کی درخواست کی مخالفت کی تاہم الیکشن ٹربیونل نے عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے نادرا سے ریکارڈ کی تصدیق کروانے کا حکم دیا ہے۔