سینیٹ کے انتخابات سے قبل ’جوڑ توڑ‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں سینیٹ کے انتخابات کے لیے جوڑ توڑ عروج پر ہے ۔
صوبہ خیبر پختونخوا پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے اپنے ایک ایسے رکن اسمبلی کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج کیا ہے جنھوں نے سینیٹ کے انتخاب کے لیے ایک آزاد امیدوار کی تائید کی ہے۔
پشاور کے دلہ زاک روڈ پر تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی جاوید نسیم کی رہائش گاہ کے سامنے کل رات بڑی تعداد میں انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے عہدیدار اور کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور رکن اسمبلی کے خلاف نعرہ بازی کی ۔
اس موقع پر جاوید نسیم کے حمایتی بھی وہاں پہنچ گئے اور اطلاعات کے مطابق جاوید نسیم کے محافظوں نے ہوائی فائرنگ کی ۔
یہ احتجاج رکن صوبائی اسمبلی کی جانب سے ایک آزاد امیدوار کی تائید کرنے پر کیا گیا ۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ جاوید نسیم کی رکنیت معطل کی جائے۔
سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو عام لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن درون خانہ ایسے اجلاس اور ملاقاتوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں جس میں سیاسی جماعتیں ان انتخابات میں مشترکہ طور پر حصہ لینا چاہتی ہیں جبکہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بیشتر اراکین اسمبلی سے ووٹ حاصل کرنے کے لے امیدواروں نے بھی اپنے طور پر رابطے کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اراکین اسمبلی کو سختی سے تنبیہ کی ہے کہ جماعت کی پالیسی کی مخالفت کرنے والے کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنماؤں نے ایک اجلاس میں پینلز تیار کیے ہیں اور حکومت میں شامل اراکین اسمبلی کے پشاور سے باہر جانے پر پابندی عائد کی ہے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تحریک انصاف میں ہم خیال گروپ کے نام سے چند اراکین حکومت کے قیام کے کچھ عرصے بعد سے متحرک ہیں اور ان میں رکن صوبائی اسمبلی جاوید نسیم زیادہ متحرک نظر آتے تھے۔
ادھر حزب اختلاف میں شامل جماعتوں نے بھی رابطے تیز کیے ہیں۔ گذشتہ روز جمعیت علماء اسلام (ف) ، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نشینل پارٹی کے رہنماؤں کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ایک فارمولے پر اتفاق کر لیا گیاہے ۔
اس فارمولے کے تحت تینوں جماعتیں مشترکہ امیدواروں کو ووٹ دیں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ایسی اطلاعات ہیں کہ پیپلز پارٹی کو دو جمعیت کے تین اور عوامی نیشنل پارٹی کو ایک سیٹ دی جائے گی۔ ان تینوں جماعتوں کے اراکین کی کل تعداد 27 ہے جس میں جمعیت کے17 جبکہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے اراکین کی تعداد پانچ پانچ ہے۔
الیکشن کمیشن کے حکام مطابق جنرل سیٹ پر منتخب ہونے کے لیے ایک سینیٹر کو لگ بھگ ساڑھے سولہ ووٹ درکار ہوں گے۔ سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ قدرے مختلف ہے کیونکہ اس میں ترجیحات کی بنیاد پر ووٹ ڈالے جاتے ہیں اور پھر اس کی اوسط دیکھی جاتی ہے۔
اس اجلاس میں حزب اختلاف میں شامل دیگر دو جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور آفتاب شیرپاؤ کی جماعت قومی وطن پارٹی شامل نہیں تھی۔ مسلم لیگ نواز کے اراکین کی تعداد 16 جبکہ قومی وطن پارٹی کے 10 ایم پی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
حکومت میں شامل پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور عوامی جمہوری اتحاد سینیٹ انتخابات میں مشترکہ امیدواروں کی حمایت کریں گے۔
تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد 57، جماعت اسلامی کے آٹھ اور عوامی جمہوری اتحاد کے پانچ اراکین ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ تحریک انصاف میں جس ہم خیال گروپ کا تذکرہ کیا جاتا ہے اس میں 10 سے 12 اراکین شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد 124 ہے اور یہاں سے سینیٹ کے بارہ اراکین کا انتخاب کیا جائےگا۔







