’شکارپور حملے کے دو سہولت کار گرفتار‘

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
صوبہ سندھ کی شکارپور پولیس نے امام بارگاہ میں خودکش بم حملے کے دو سہولت کاروں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کا تعلق ممنوعہ شدت پسند گروہ لشکرِ جھنگوی اور جیشِ اسلام نامی گروہ سے ہے۔
ایس ایس پی شکارپور ثاقب اسماعیل میمن نے جمعہ کی شب ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ شکارپور کے قریب واقع ایک گاؤں سے یہ گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، گرفتار ملزمان کی شناخت غلام رسول اور خلیل بروہی کے نام سے کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے امام بارگاہ کے قریب ریڑھی لگاکر پہلے ریکی کی تھی، جس کے بعد اٹھارہ سے بیس سال کی عمر کے الیاس نامی نوجوان نے خودکش حملہ کیا، جس کا تعلق کوئٹہ سے تھا اور اس کو محمد رحیم بروہی نامی ملزم اپنے ساتھ کوئٹہ سے لایا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان نے شکارپور میں مجلس وحدت مسلمین کے رہنما شقت عباس کی ٹارگٹ کلنگ کا اعتراف کیا ہے اور اس کے علاوہ دیگر شخصیات کے نام بھی بتائے ہیں جن پر وہ حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
ایس ایس پی ثاقب اسماعیل کے مطابق ملزمان سے پانچ کلو گرام تیار بارود، ڈیٹونیٹر، ڈیوائس، بال بیئرنگ کے علاوہ مختلف سائز کی بیٹریاں بھی برآمد ہوئی ہیں، ان کے پاس ایک مینوئل بھی موجود تھا جس میں بم بنانے کے مختلف طریقہ کار بتائے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہepa
شکارپور میں گزشتہ ماہ ایک مسجد میں خودکش بم حملے میں 60 سے زائد نمازی ہلاک ہوگئے تھے، ملزمان کی گرفتاری کے لیے شکارپور میں دھرنے دیئے گئے اور کراچی تک مارچ بھی کیا گیا۔
ایس ایس پی شکارپور ثاقب اسماعیل نے میڈیا کو بتایا کہ ملزمان نے دھرنے میں پریشر ککر بم دھماکہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، لیکن سیکیورٹی انتظامات کے باعث وہ ایسے کرنے میں ناکام رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم خلیل بروہی کا تعلق بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی سے ہے، واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے ظاہر کیا گیا گروپ جیش اسلام میں سرگرم شدت پسند گروپ ہے جس پر گزشتہ سال پابندی عائد کی گئی تھی۔







