کراچی میں شکارپور حملے کے خلاف دھرنا

خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی احتجاج میں شریک تھی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنخواتین کی ایک بڑی تعداد بھی احتجاج میں شریک تھی
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں شکارپور امام بارگاہ میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کا دھرنا گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے جاری ہے، منگل کی شب شہدا کمیٹی کے زیر انتظام یہ لانگ مارچ کراچی میں داخل ہوا تھا، جس کا وادی حسین قبرستان اور بعد میں انچولی امام بارگاہ کے قریب استقبال کیا گیا ۔

لانگ مارچ کے شرکا نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومت نے وزیر اعلیٰ ہاؤس سمیت ریڈ زون میں جلسے جلوس پر پابندی عائد کردی، جس وجہ سے شرکا نے ایم اے جناح روڈ پر نمائش چورنگی پر دھرنا دے دیا۔

احتجاج میں خواتین حملے میں ہلاک ہونے والے اپنے بچوں کی تصاویر لے کر کھڑی تھیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناحتجاج میں خواتین حملے میں ہلاک ہونے والے اپنے بچوں کی تصاویر لے کر کھڑی تھیں

مرکزی شاہراہ پر دہرنے کی وجہ سے شہر میں سارا دن بری طرح سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی یہ سلسلہ رات تک جاری رہا۔

لانگ مارچ کے قائدین کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے مثبت پیش رفت نظر آئی ہے جب تک مطالبات کو عملی جامعہ نہیں پہنایا جائے گا اس وقت تک دھرنا جاری رہے گا ۔

حکومت سندھ کی جانب سے شہداء کمیٹی کے وفد کو مذاکرات کے لیے وزیر اعلیٰ ہاؤس طلب کیا گیا، جہاں وزیر اعلیٰ ، ڈی جی رینجرز ،آئی جی سندھ صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن اور دیگر حکام کی موجودگی میں مذاکرات کیے گئے جو تین گھنٹے جاری رہے ۔

ان مذاکرات کے بعد شیعہ رہنما واپس دھرنے میں پہنچے۔ مارچ کے سربراہ علامہ مقصود ڈومکی نے شرکا کو بتایا کہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ انھوں نے اپنے مطالبات حکومت کو دیئے ہیں لیکن انھیں عملی جامعہ نہیں پہنایا گیا لہذا ابھی دھرنہ جاری رہے گا۔

احتجاج کرنے والوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ شیعہ برادری کے خلاف دہشت گردی روکنے کے لیے ٹھوس اقدام کرے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشناحتجاج کرنے والوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ شیعہ برادری کے خلاف دہشت گردی روکنے کے لیے ٹھوس اقدام کرے

یاد رہے کہ شرکا کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ کہ کراچی کے علاوہ بھی شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے، امام بارگاہ دھماکے میں ملوث ملزمان کی گرفتار ی عمل میں لائی جائے۔

سینئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے منگل کو سندھ اسمبلی کو بتایا تھا کہ مارچ کے شرکا سے مذاکرات کے تین دور ہوئے جو کامیاب نہیں ہوسکے حکومت تمام مطالبات ماننے کے لیے تیار تھی لیکن مارچ کے شرکا کا کہنا تھا کہ کراچی پہنچ کر مذاکرات کیے جائیں گے۔

اس سے قبل بھی شیعہ برداری پر ہونے والے حملوں پر احتجاجی دھرنے کیے جاتے رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس سے قبل بھی شیعہ برداری پر ہونے والے حملوں پر احتجاجی دھرنے کیے جاتے رہے ہیں

بدھ کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں مسودے کو حتمی شکل دینے کے بعد اس کا حتمی اعلان کیا جائے گا۔