شکار پور خود کش حملے کے ورثا کا قافلہ کراچی کی جانب روانہ

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان کے صوبے سندھ کے شہر شکار پور میں 30 جنوری کو ہونے والے خود کش حملے کے مثاثرہ افراد کے ورثا، رشتہ دار اور مختلف شیعہ تنظیموں کے رہنماؤں پر مشتمل قافلہ پیر کو شکارپور سے نو شہرو فیروز پہنچا۔
یہ قافلہ اتوار کو شکار پور سےروانہ ہوا تھا اور منگل کو کراچی پہنچے گا۔
شکار پور خود کش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے ورثا کا قافلہ منگل کو کراچی پہنچ کر دہشت گردوں کے خلاف مکمل آپریشن کا مطالبہ کرے گا۔
مجلس وحدت مسلمین کے مطابق قافلے میں شکار پور خود کش دھماکے میں ہلاک ہونے والوں ورثا کے علاوہ بھی خواتین اور دیگر افراد موجود ہیں۔
صحافی علی حسن کے مطابق مجلسِ وحدت المسلمین کے نائب صدر علامہ امین شہیدی، جنرل سیکریٹری مولانا مقصود اور دیگر رہنما قافلے کے ساتھ ہیں۔ قافلے کی حفاظت کے لیے پولس کی گاڑیاں ساتھ ہیں لیکن مولانا مقصود کا کہنا ہے کہ وہ حفاظتی انتظامات سے مطمئن نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین نے قافلے کے ساتھ پولیس کے علاوہ رینجرز کا بھی مطالبہ کیا تھا لیکن رینجرز کو قافلے کے ساتھ نہیں رکھا گیا ہے۔
خیال رہے کہ 31 جنوری کو حکام کے مطابق ضلع شکار پور کی امام بار گاہ میں دھماکے سے کم از کم 57 افراد ہلاک اور 57 زخمی ہوگئے تھے۔
جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت شہر کے مرکزی علاقے میں واقع امام بارگاہ اور مسجد کی دو منزلہ عمارت میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور نمازِ جمعہ کا خطبہ جاری تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شکار پور میں ماضی میں بھی فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں اور مئی 2013 میں یہاں ایک شیعہ رہنما کے ایک انتخابی قافلے پر خودکش حملہ ہوا تھا۔
اس سے قبل جنوری سنہ 2013 میں ہی شکارپور شہر سے دس کلومیٹر دور واقع درگاہ غازی شاہ میں بم دھماکے میں گدی نشین سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سنہ 2010 میں بھی شکار پور میں عاشورۂ محرم کے موقع پر ایک مجلس پر حملے کی کوشش کے دوران ایک مشتبہ خودکش بمبار ہلاک ہوا تھا۔







