اصغر خان کیس کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ نے پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ کی طرف سے اصغر خان کیس میں عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔
نظر ثانی کی یہ درخواست سنہ 2012 میں ایئرفورس کے سابق سربراہ اصغر خان کی درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے اس درخواست پر اپنے فیصلے میں سنہ 1990 میں اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے لیے موجودہ وزیراعظم نواز شریف سمیت دیگر سیاست دانوں میں رقوم تقسیم اور 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی ذمہ داری مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درنی پر عائد کی تھی۔
جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی چار مارچ سے نظر ثانی کی اس درخواست کی سماعت کرے گا۔
جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست میں یہ استدعا کی ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں تحقیقات کے بغیر ہی اُنھیں سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کا ذمہ دار ٹھرایا جبکہ اس بارے میں ابھی تک کسی ادارے نے تحقیقیات بھی نہیں کیں۔
علی ظفر ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی گئی نظرثانی کی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ مرزا اسلم بیگ کو بطور آرمی چیف اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کے احکامات کو بھی نہیں ماننا چاہیے تھا جو اُنھوں نے سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے لیے دیے تھے۔
واضح رہے کہ غلام اسحاق خان اُس وقت پاکستانی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف تھے۔

اس سے پہلے اکرم شیخ سابق آرمی چیف کے وکیل کے طور پر عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اکرم شیخ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے میں سرکاری وکیل کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت کی طرف سے فیصلوں میں ایسی باتوں کا ذکر تفتیش پر بھی اثر انداز ہوگا کیونکہ تفتیشی افسر یہ تصور کرے گا کہ چونکہ سپریم کورٹ نے اُن کے موکل کو ذمہ دار ٹھرایا ہے اس لیے اُنھیں اس بارے میں تحقیقات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
نظرثانی کی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اس فیصلے سے ایسے ریمارکس کو نکال دیا جائے جو اس مقدمے کی تفتیش پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ اس کے علاوہ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو سیاستدان اس رقم سے مستفید ہوئے ان کی بھی تحقیقات کی جائیں۔
حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نے اقتدار میں آکر یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اصغر خان کیس میں ہونے والی تفتیش کو منظر عام پر لائے گی تاہم ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔







