’امن مذاکرات شروع کرنے پر رضامند نہیں ہوئے ہیں‘

افغان طالبان نے کہا ہے کہ انھوں نے نہ ہی امن مذاکرات شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور نہ ہی جلد ایسا ہو گا۔
دوسری جانب پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کے عمل کی حمایت کرتا ہے اور اس کا اصرار ہے کہ مفاہمتی عمل شفاف اور افغانستان کی زیر قیادت ہو۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات ِعامہ کی جانب سے جمعرات کو یہ تحریری بیان غیر ملکی خبر رساں ادارے روئٹرز کی اس خبر کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے جس میں ایک سینئیر فوجی اور سفارتی اہلکار کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان نے پاکستانی فوج کو یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور اس سلسلے میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور آج جمعرات 19 فروری کو قطر میں ہوگا۔
آئی ایس پی آر کے تحریری بیان میں افغان امن مذاکرات کے حوالے سے میڈیا رپورٹ کا حوالہ تو دیا گیا ہے تاہم اس کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق افغانستان کے حوالے سے ہونے والی کسی بھی ملاقات میں افغانستان میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مفاہمت پر ہمیشہ بات ہوتی ہے۔
’پاکستان نے ہمیشہ اس عمل کی حمایت کی ہے اور پھر زور دیا ہے کہ اسے شفاف ہونا چاہیے اور افغان قیادت کے تحت ہونا چاہیے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی کی ذمہ داری دونوں فریقین پر عائد ہوتی ہے اور پاکستان پورے خلوص کے ساتھ اس عمل کی حمایت کرتا ہے کیونکہ افغانستان امن پورے خطے میں امن لائے گا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے اس امید کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ تمام فریقین ذمہ داری کے ساتھ مفاہمتی عمل کو جاری رکھیں گے اور امن کے مخالفین کو جیتنے نہیں دیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی سے گفتگو میں ان خبروں کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ افغان طالبان نے امن مذاکرات کے لیے رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
’تردید کرتا ہوں نہ تو کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں اور نہ ہی جلد ہوں گے۔‘
ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر کے دفتر میں جمعرات کو کسی سے بھی بات چیت طے نہیں تھی، ہم اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔ طالبان نے مذاکرات کے حوالے سے نہ تو اپنی پالیسی تبدیل کی ہے اور نہ ہی اس کسی آپشن پر کوئی سنجیدہ غور کیا ہے کیونکہ افغانستان اب تک غیر ملکی قبضے میں ہے۔‘
افغان طالبان کا کہنا ہے کہ نہ تو امریکہ کے ساتھ قطر دفتر میں مذاکرات کا آغاز ہوا ہے اور نہ ہی انھوں نے دوحا میں اس مقصد کے لیے کوئی وفد بھجوایا ہے۔
یاد رہے کہ 27 جنوری کو بی بی سی پشتو سروس سے گفتگو میں ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان وفد کے دورۂ چین کی تصدیق کی تھی تاہم ان کا کہنا ہے کہ تنظیم نے افعان حکومت کے ساتھ چین کی ثالثی کی درخواست نہیں کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی ممالک نے طالبان کو ثالثی کی پیشکش کی ہے تاہم طالبان کی جانب سے انھیں کوئی جواب نہیں دیا گیا۔







