ژوب:مغوی اہلکاروں کی تلاش جاری، آپریشن میں دو ہلاک

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع ژوب میں سکیورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کے دوران دو شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔
ادھر پولیو ٹیم کے مغوی کارکنوں اور لیویز اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کارروائی پیر کو دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔
لیویز کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے اتوار کی شب ژوب اور قلعہ سیف اللہ کے سرحدی علاقے میں یہ آپریشن کیا۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ تلاشی کے دوران تودہ کد زئی کے علاقے میں دو شدت پسندوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی۔
ان کے مطابق جوابی فائرنگ سے ایک شدت پسند تو موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرا زخمی ہوا۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ جب کارروائی میں شامل لیویز اہلکار زخمی کے قریب پہنچے تو اس نے دستی بم کا دھماکہ کر دیا جس میں وہ خود ہلاک ہوگیا اور لیویز کا ایک اہلکار زخمی ہوا۔
خیال رہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے مرغہ کبزئی کے علاقے سے جمعے کو دو پولیو رضا کاروں اور ان کی حفاظت پر مامور دو لیویز اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا۔
لیویز کے مطابق ان کی بازیابی کے لیے آپریشن پیر کو دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے تاہم اس میں تاحال کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ ژوب کوئٹہ سے شمال مغرب میں افغانستان کی سرحد سے متصل ضلع ہے اور اس کی سرحد وزیرستان ایجنسی سے بھی ملتی ہے۔
ژوب سے متصل ضلع قلعہ سیف اللہ میں بھی چند روز قبل پی ٹی سی ایل کے پانچ اہلکاروں سمیت چھ افراد کو اغوا کیا گیا تھا جن کی تاحال بازیابی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
چار جنوری کو بھی قلعہ سیف اللہ سے دس مسافروں کو بھی اغوا کیا گیا تھا جن میں سے ایک کو ہلاک کرنے کے علاوہ چھ کو چھوڑ دیا گیا تھا جبکہ تین افراد ابھی تک اغوا کاروں کی تحویل میں ہیں۔
مغویوں کی بازیابی کے لیے مزید نفری طلب کرلی گئی ہے جبکہ علاقے میں صورت حال کشیدہ ہے۔







