قلع سیف اللہ سے مزید چھ افراد لاپتہ، ’اغوا کر لیا گیا ہے‘

ان ملازمین کو تلاش کیا جارہا ہے جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے: ڈپٹی کمشنر

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنان ملازمین کو تلاش کیا جارہا ہے جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے: ڈپٹی کمشنر
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ سے پاکستان ٹیلی کمونیکیشن کے پانچ ملازمین سمیت چھ افراد لاپتہ ہوگئے ہیں جبکہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان افراد کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ عامر سلطان نے ان چھ افراد کی لاپتہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لوگ گوال اسماعیل زئی کے علاقے میں پی ٹی سی ایل کی ایک بوسٹر کی مرمت کرنے گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ محکمہ کے لوگوں نے ضلعی انتظامیہ کو جو اطلاع دی ہے اس کے مطابق مرمت کے لیے جانے والے ملازمین کا جمعرات کی شام سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان ملازمین کو تلاش کیا جارہا ہے جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔

تاہم ذرائع کے مطابق انہیں نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ اغوا ہونے والوں میں ایک ڈویژنل انجینیئر اور ایک ایس ڈی او بھی شامل ہیں۔

ان افراد کو اغوا کرنے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

قلعہ سیف اللہ کوئٹہ سے اندازاً 150 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ہے۔ اس ضلع کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے اور اس کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔

قلعہ سیف اللہ سے گذشتہ ماہ 10 مسافروں کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔ ان میں سے ایئر فورس سے تعلق رکھنے والے ملازم کو اغوا کاروں نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ مغویوں میں سے چھ افراد کو بعد میں چھوڑ دیا گیا تھا جبکہ تین ابھی تک اغوا کاروں کی تحویل میں ہیں۔