سینیٹ الیکشن: پیر صابر شاہ کی متبادل امیداور بننے سے معذرت

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، پشاور
پاکستان مسلم لیگ نواز کے صوبائی صدر پیر صابر شاہ نے سینیٹ انتخابات کے لیے کسی دوسرے امیدوار کا متبادل یا کورنگ امیدوار بننے سے معذرت کر لی ہے۔
خیبر پختونخوا میں جمعرات کو سینیٹ انتخابات کے لیے چھ امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے جن میں دو خواتین بھی شامل تھیں۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت نے جماعت کے صوبائی صدر پیر صابر شاہ کو ایک متبادل یا کورنگ امیدوار کے طور پر نامزد کیا۔ تاہم پیر صابر شاہ نے جمعرات کو ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ کورنگ یا متبادل امیدوار بننا جماعت میں ان کے عہدے یعنی صوبائی صدر کے لیے مناسب نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی قیادت کا حکم مانیں گے تاہم انھیں اپنے عہدے سے انصاف کرتے ہوئے صوبائی صدارت سے مستعفی ہونا پڑے گا۔
انھوں نے میاں نواز شریف سے کہا ہے کہ وہ کسی دوسرے رہنما کو متبادل یا کورنگ امیدوار نامزد کر دیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا مسلم لیگ نواز کے بعض فیصلوں کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں پارٹی کو نقصان پہنچا ہے۔
ان کے بقول اب پیر صابر شاہ کو متبادل امیدوار نامزد کرنے سے بھی پارٹی پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔
مسلم لیگ نواز نے سینیٹ انتخابات سے پہلے جماعت کے صوبائی سطح کے فیصلے کا اختیار بھی لاہور منتقل کر دیا تھا جس کے بعد جماعت کا صوبائی سیکریٹیریٹ برائے نام ہی رہ گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ نواز شریف نے خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے لیے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ سے رابطہ کیا ہے ۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں مسلم لیگ کے ارکان کی تعداد 18 اور قومی وطن پارٹی کے ارکان کی تعداد آٹھ ہے۔
اسی طرح دیگر جماعتوں میں تحریک انصاف کے 56، جماعتِ اسلامی کے آٹھ اور عوامی جمہوری اتحاد کے ارکان کی تعداد پانچ ہے۔
جماعت اسلامی نے سراج الحق کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے جبکہ پروفیسر ابراہیم ان کے کورنگ امیدوار ہوں گے۔
جماعت اسلامی کے ترجمان اسرار اللہ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گی۔







