شمالی وزیرستان، فضائی حملوں میں غیر ملکیوں سمیت 35 ہلاک

،تصویر کا ذریعہPAF
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کے فضائی حملوں میں غیر ملکیوں سمیت پینتیس شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ کارروائی دتہ خیل اور اس کے مضافاتی علاقوں میں کی گئی ہے ۔ فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق دتہ خیل اور اس کے مضافات میں محدود پیمانے پر فضائی حملے کیے گئے۔ آس آپریشن میں غیر ملکیوں سمیت پینتیس شدت پسند مارے گئے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے چند دنوں سے دتہ خیل اور شوال کے علاقوں میں مشتبہ مقامات پر کارروائیاں تیز کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں سے اب بیشتر شدت پسند یا تو مارے جا چکے ہیں اور یا وہ وہاں سے فرار ہو رہے ہیں۔
سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان ایجنسی میں گزشتہ سال وسط جون سے فوجی آپریشن ضرب عضب شروع کیا تھا جس میں حکام کے مطابق بارہ سو سے زیادہ شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔
آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد شمالی وزیرستان سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
سکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان کے بیشتر علاقے شدت پسندوں سے صاف کر دیے گئے ہیں اور بہت جلد نقل مکانی کرنے والے افراد کو واپس اپنے علاقوں کو بھیجا جائے گا ۔
شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ اور میر علی کو شدت پسندوں سے مکمل صاف کر دیا گیا ہے جبکہ دتہ خیل اور شوال کے بیشتر علاقوں میں بھی مقامی لوگوں کے مطابق اب شدت پسند نہیں رہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس کے علاوہ ادھر خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور اس کے مضافات میں سکیورٹی فورسز پولیس اور دیگر اداروں کی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیبر پختونخوا میں آرمی پبلک سکول اینڈ کالج پر حملے کے بعد بننے والے نیشل ایکشن پلان کے تحت پولیس نے مشتہ افراد کے خلاف آپریشن شروع کر رکھا ہے ۔ آج پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دو روز میں صوبے کے مختلف علاقوں سرچ آپریشن کیے گئے جس میں دو سو چھیالیس افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ ان میں سے بیشتر کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے ۔ اس آپریشن میں گھروں کے علاوہ ہوٹلوں پر بھی چھاپے لگائے گئے جبکہ راستوں پر قائم چوکیوں پر اور موبائل ٹیموں کی کارروائیوں میں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔







