ضیاء الحق کے پھیلائے ہوئے اندھیرے دور کرنے کی کوشش

،تصویر کا ذریعہbbc
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومت انسداد دہشت گردی کے قومی منصوبے کے تحت ملک سے شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے جو نئے ضوابط اور قوانین متعارف کروا رہی ہے ان کا بظاہر ہدف وہ روایات اور قوانین ہیں جنہیں سابق فوجی صدر جنرل ضیا الحق کے دور میں نافذ کیا گیا تھا۔
پشاور سکول پر حملے کے بعد حکومت نے 20 نکاتی قومی ایکشن پلان کے تحت فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت، مساجد میں خطبے کے دوران مسالک کی تضحیک یا جہاد کو فروغ دینے، دہشت گردانہ سرگرمیوں یا ان میں ملوث افراد کی بڑائی بیان کرنا اور مدارس میں فرقہ واریت کی تعلیم دینے کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
بعض آئینی ماہرین اور سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ یہ تمام قوانین ملک میں ان روایات اور معاشرتی تبدیلیوں کو ختم کرنے کی کوشش ہے جن سابق ڈکٹیٹرضیا الحق کے دور میں حوصلہ افزائی کی گئی۔
آئینی ماہر اور سیاسی مبصر عابد حسن منٹو کہتے ہیں کہ ’موجودہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ملک کو اس نظام اور روایات سے باہر نکالا جائے جو ضیا الحق کے دور میں نافذ کی گئی تھیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ضیاالحق نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک میں اسلام کے نام پر نئی روایات ڈالی اور یکسوئی سے ان پر عمل کروایا۔ لیکن موجودہ حکومت جو اقدامات کر رہی ہے وہ ہیں تو ضیا دور کے اقدامات کی ضد لیکن ان کے پیچھے سیاسی سوچ اتنی واضح یا طاقتور نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
’ابھی تک واضح نہیں ہے کہ حکومت کے ذہن میں اس ریاست کے مستقبل کا کیا نقشہ ہے۔ وہ کس قسم کی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ جس طرح کے قوانین بنائے جا رہے ہیں وہ کچھ اشارہ تو ہیں لیکن حکومت میں یکسوئی کی کمی ہے۔‘
آئینی ماہر ایس ایم ظفر کہتے ہیں کہ حکومتی اقدامات سے واضح ہے کہ وہ ضیا الحق کے دور میں کیے گئے اقدامات کو الٹنا چاہ رہے ہیں۔
’ضیا الحق نے نئے شرعی قوانین کے ذریعے اپنے طور پر پاکستان کا قبلہ درست کر دیا تھا۔ نواز شریف نا چاہتے ہوئے بھی ضیا کی مخالف سمت میں سفر کر رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایس ایم ظفر کے مطابق ذہنی طور پر نواز شریف اب بھی ضیا الحق سے مطابقت رکھتے ہیں لیکن حالات نے انہیں مخالف سمت میں اقدامات لینے پر مجبور کر دیا ہے۔
’نواز شریف میں وہ کرشمہ نہیں ہے کہ وہ اپنا سیاسی ایجنڈے پر عمل کر سکیں۔ وہ حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ کام کر رہے ہیں جو پاکستانیوں کی اکثریت چاہتی ہے۔‘
ایس ایم ظفر نے کہا کہ ایک اور فوجی صدر پرویز مشرف نے بھی یہی کچھ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ناکام رہے۔
’اپنی حکومت کے آغاز میں پرویز مشرف نے بھی اسی طرح کی پالیسیاں نافذ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ سیاسی مصلحت کا شکار ہو کر اپنا سیاسی رخ تبدیل کرنے پر مجبورہوگئے۔‘
ایس ایم ظفر نے کہا کہ ضیا الحق نے جو اسلامی اور شرعی قوانین متعارف کروائے ان کے بہت دور رس اثرات ہوئے۔
’فوج میں جہاد فی سبیل اللہ کا نعرہ ان ہی دنوں میں متعارف کروایا گیا جس کے اثرات سب کے سامنے ہیں۔‘
ایس ایم ظفر نے کہا کہ ضیا کے ان اقدامات کو تقویت افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال نے دی جب امریکہ نے بھی ضیا الحق کے ان اقدامات کی نا صرف حمایت کی بلکہ انہیں فروغ دینے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔
عابد حسن منٹو کہتے ہیں کہ اب تین دہائیوں بعد وہی امریکہ ضیا الحق کے سیاسی ساتھی نواز شریف کے ساتھ مل کر ان ہی اقدامات کی نفی کرنے کی کوشش کر رہا ہے جن کی ترویج کے لیے امریکہ نے لاکھوں ڈالر خرچ کیے تھے۔







