پشاور حملے کے 26 دن بعد کل سکول دوبارہ کھلیں گے

پشاور میں جن سکولوں نے تاحال مناسب حفاظتی انتظامات نہیں کیے ہیں انھیں این او سی جاری نہیں کی گئی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپشاور میں جن سکولوں نے تاحال مناسب حفاظتی انتظامات نہیں کیے ہیں انھیں این او سی جاری نہیں کی گئی

پاکستان بھر کے سکول 16 دسمبر کو پشاور میں واقع آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد کل یعنی 12 جنوری کو دوبارہ کھل رہے ہیں۔

آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے میں کم از کم 132 بچوں سمیت 141 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس حملے کے بعد ملک بھر میں سکیورٹی خدشات کے باعث سکول بند کردیے گئے تھے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آرمی پبلک سکول سمیت وہ تمام سکول پیر سے کھل جائیں گے جنھوں نے سکیورٹی انتظامات کو بہتر کیا ہے۔

سکول انتظامیہ سے حکومت نے کہا تھا کہ موسمِ سرما کی چھٹیوں کے دوران سکیورٹی کے انتظامات بہتر بنائے جائیں۔

حکومت کی جانب سے جو تمام سکولوں کی انتظامیہ کو احکامات جاری کیے گئے تھے ان میں سکیورٹی گارڈز میں اضافہ، سکول کی دیواروں کی اونچائی کم از کم آٹھ فٹ، دیواروں پر خاردار تاریں اور گیٹ کے سامنے بیریئر لگانے شامل ہیں۔

پشاور میں ہمارے نامہ نگار ذیشن ظفر نے بتایا کہ آرمی پبلک سکول میں پیر کی صبح ایک تعزیتی تقریب منعقد کی جائے گی۔

آرمی پبلک سکول کی دیواریں اونچی کر دی گئی ہیں اور ان پر خاردار تاریں لگائی گئی ہیں۔

تاہم تاج محمود ملک جن کی دو پوتیاں آرمی پبلک سکول میں میں ہی پڑھتی ہیں نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ ’نئے انتظامات ہو گئے ہیں‘۔ لیکن ان کے لہجے میں عدم اطمینان اور خوف واضح تھا۔

پشاور کے ایس ایس پی آپریشنز ڈاکٹر میاں سعید نے نامہ نگار کو بتایا کہ ’تمام سرکاری سکولوں کے سکیورٹی انتظامات پورے کیے جاچکے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کے حوالے سے نجی سکولوں سے مسئلے پیدا ہو رہے ہیں کیونکہ وہ تعاون نہیں کر رہے ہیں۔

’65 کے قریب ایسے سکول ہیں جو ان علاقوں میں ہیں جن کے قریب افغان بستی وغیرہ ہیں۔ ان میں سے چند سکولوں کو این او سی جاری کی گئی ہے کیونکہ باقی سکولوں نے حفاظتی انتظامات نہیں کیے ہیں۔‘

ایس ایس پی آپریشنز ڈاکٹر میاں سعیدنے پولیس کو درپیش وسائل اور اہلکاروں کی تعداد میں کمی کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ سکیورٹی کی بہتری کے لیے عوام کا تعاون بہت ضروری ہے۔

سرکاری اداروں کی سکیورٹی سے متعلق محکمۂ تعلیم نے بھی حفاظتی انتظامات کی یقین دہانی کروائی ہے۔