طالبان کے لیے کلنک کا ٹیکہ؟

سانحہ آرمی پبلک سکول کو تین ہفتے ہو گئے ہیں لیکن ملک میں بدستور ہر فورم پر عسکریت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں کے مطالبے پر زور دیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنسانحہ آرمی پبلک سکول کو تین ہفتے ہو گئے ہیں لیکن ملک میں بدستور ہر فورم پر عسکریت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں کے مطالبے پر زور دیا جا رہا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران گذشتہ دس سالوں میں کئی ایسے اہم واقعات رونما ہوئے جو سکیورٹی فورسز کے لیے بھی شدید تنقید اور بدنامی کا باعث بنے یا جن کی وجہ سے شدت پسندی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کا حملہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایسا ہی ایک بڑا سانحہ ہے جو شاید طالبان کےلیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ماتھے کا کلنک ثابت ہو۔

سوات میں سنہ 2009 میں جب طالبان کے خلاف سکیورٹی فورسز کے دو آپریشنوں کے باوجود ان کی سرگرمیاں عروج پر پہنچ رہی تھیں اور عسکریت پسند صدر مقام مینگورہ کے قریب پہنچ چکے تھے تو اس دوران شدت پسندوں کی طرف سے ایک خاتون کو کوڑے مارنے کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس نے جنگ کا سارا نقشہ ہی تبدیل کر دیا۔

سکول پر طالبان کا حملہ ایک ایسا بڑا سانحہ ہے جو شاید سدا کے لیے طالبان کے ماتھے کا کلنک ثابت ہو
،تصویر کا کیپشنسکول پر طالبان کا حملہ ایک ایسا بڑا سانحہ ہے جو شاید سدا کے لیے طالبان کے ماتھے کا کلنک ثابت ہو

یہ ویڈیو ملک کے تقریباً تمام ٹی وی چینلوں پر دکھائی گئی جس سے پورے ملک میں فضا بنتی چلی گئی اور عوام کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا دباؤ بڑھنے لگا۔ اس سے پہلے وادی میں کی جانے والی تمام کارروائیاں غیر موثر رہی تھیں۔

اپریل کے مہینے میں کوڑے مارنے کی ویڈیو سامنے آئی اور مئی میں فوج کی جانب سے فیصلہ کن آپریشن کا آغاز کیا گیا جس کے چند ہفتوں بعد ہی طالبان کو شکست دی گئی اور ان کو سوات سے بے دخل کر دیا گیا۔

اس طرح اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن حکومت اور سکیورٹی فورسز کے لیے آج تک بدنامی کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے لال مسجد پر چڑھائی اس مقصد کے تحت کی تاکہ ملک کے دارالحکومت سے شدت پسندی کا خاتمہ کیا جا سکے لیکن طاقت کے استعمال کا الٹا اثر ہوا۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سکول پر حملے نے ان تمام دروازوں کو اب شاید مکمل طورپر بند کر دیا ہے جس سے مستقبل میں کسی نہ کسی صورت میں امن مذاکرات کا کوئی امکان تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنتجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سکول پر حملے نے ان تمام دروازوں کو اب شاید مکمل طورپر بند کر دیا ہے جس سے مستقبل میں کسی نہ کسی صورت میں امن مذاکرات کا کوئی امکان تھا

شدت پسندی پر کام کرنے والے بیشتر تحقیق کار اس بات سے متفق ہیں کہ لال مسجد کے واقعے سے ملک میں شدت پسندی میں کئی گنا اضافہ ہوا اور مختلف علاقوں میں نئے محاذ کھل گئے اور کئی عسکری تنظیمیں وجود میں آئیں۔ یہ واقعہ نہ صرف سکیورٹی فورسز کے لیے بدنامی کا باعث بنا بلکہ اس کے اثرات آج تک اسلام آباد میں پائے جاتے ہیں۔

تقریباً دو سال پہلے ملالہ یوسف زئی پر ہونے والا طالبان کا حملہ بھی شدت پسندوں کےلیے بڑی بدنامی کا باعث بنا۔ اس واقعے کے خلاف پاکستان کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ تاہم دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے شکوک و شبہات کے اظہار سے اس واقعے کو متنازع بنانے کی کوششں کی گئی۔

لیکن آرمی پبلک سکول پر حالیہ حملے میں ڈیڑھ سو کے قریب طلبہ و اساتذہ کے بہیمانہ قتل عام کا ملک کے اندر جس انداز سے شدید ردعمل سامنے آیا اس سے شاید اب طالبان بھی سمجھ چکے ہوں کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا ان کی بہت بڑی غلطی تھی۔

لال مسجد پر حملے نے حکومت اور سکیورٹی کی شبیہ کو شدید نقصان پہنچایا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلال مسجد پر حملے نے حکومت اور سکیورٹی کی شبیہ کو شدید نقصان پہنچایا

اس واقعے پر ملک کی ان سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی سخت الفاظ میں بیانات جاری کیے گئے جو ہمیشہ سے شدت پسندوں کے قریبی، حامی اور ان کے سیاسی ونگ کے طور پر مشہور تھے۔ ان میں بالخصوص مذہبی اور دائیں بازو کی جماعتیں قابل ذکر ہیں جو ماضی میں کھل کر شدت پسندوں کی حمایت کرتی رہی ہیں یا ان کے خلاف بات کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔

اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سکول پر حملے نے ان تمام دروازوں کو اب شاید مکمل طور پر بند کر دیا ہے جس سے مستقبل میں کسی نہ کسی صورت میں امن مذاکرات کا کوئی امکان تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ موجود صورت حال میں اگر کوئی طالبان سے امن مذاکرات کی بات کرے گا تو اسے بھی ان کا حامی اور ملک دشمن تصور کیا جائے گا۔

سانحہ پشاور کو 19 دن پورے ہوگئے ہیں لیکن ملک میں بدستور ہر فورم پر عسکریت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں کی بات پر زور دیا جارہا ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس واقعے کا قوم پر کتنا اثر ہوا ہے۔